🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. باب : عدة المختلعة
باب: خلع کرانے والی عورت کی عدت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3528
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ رُبَيِّعَ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ، قَالَتْ: اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي، ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ، فَسَأَلْتُهُ مَاذَا عَلَيَّ مِنَ الْعِدَّةِ، فَقَالَ:" لَا عِدَّةَ عَلَيْكِ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَدِيثَةَ عَهْدٍ بِهِ، فَتَمْكُثِي حَتَّى تَحِيضِي حَيْضَةً، قَالَ: وَأَنَا مُتَّبِعٌ فِي ذَلِكَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةِ: كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ".
عبادہ بن ولید ربیع بنت معوذ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھ سے اپنا واقعہ (حدیث) بیان کیجئے انہوں نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے خلع کیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا کہ مجھے کتنی عدت گزارنی ہو گی؟ انہوں نے کہا: تمہارے لیے عدت تو کوئی نہیں لیکن اگر انہیں دنوں (یعنی طہر سے فراغت کے بعد) اپنے شوہر کے پاس رہی ہو تو ایک حیض آنے تک رکی رہو۔ انہوں نے کہا: میں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کی پیروی کر رہا ہوں جو آپ نے ثابت بن قیس کی بیوی مریم غالیہ کے خلع کرنے کے موقع پر صادر فرمایا تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3528]
حضرت عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ مجھے اپنا واقعہ بیان کیجیے۔ وہ کہنے لگیں کہ میں نے اپنے خاوند سے خلع لیا، پھر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئی اور آپ سے پوچھا کہ مجھ پر کتنی عدت واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ تجھ پر کوئی عدت واجب نہیں مگر یہ کہ تیرے خاوند نے تجھ سے اس طہر میں جماع کیا ہو تو پھر تو ایک حیض انتظار کر۔ انہوں نے فرمایا کہ اس سلسلے میں میں نے مریم مغالیہ کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی پیروی کی ہے، وہ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور انہوں نے ان سے خلع لے لیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطلاق23 (2058)، (تحفة الأشراف: 1536) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ثابت بن قیس کی بیوی کے مختلف نام لوگوں نے لکھے ہیں، انہیں میں سے ایک مریم غالیہ بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عثمان بن عفان، أبو عمروصحابي
👤←👥الربيع بنت معوذ الأنصارية
Newالربيع بنت معوذ الأنصارية ← عثمان بن عفان
صحابي
👤←👥عبادة بن الوليد الأنصاري، أبو الصامت، أبو الوليد
Newعبادة بن الوليد الأنصاري ← الربيع بنت معوذ الأنصارية
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← عبادة بن الوليد الأنصاري
صدوق مدلس
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← ابن إسحاق القرشي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥عبيد الله بن سعد القرشي، أبو الفضل
Newعبيد الله بن سعد القرشي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3528 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3528
اردو حاشہ:
(1) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فیصلے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک حیض عدت بھی استبرائے رحم‘ یعنی رحم کی صفائی معلوم کرنے کے لیے ہے۔ اگر تازہ طہر میں جماع نہ ہوا ہو تو ایک حیض عدت بھی ضروری نہیں لیکن یہ تفصیل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اپنی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو صحیح ثابت ہے کہ وہ یہی ہے کہ آپ نے ہر خلع والی عورت کو ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا ہے (ماسواحاملہ کے) خواہ اس سے حالیہ طہر میں جماع ہوا ہو یا نہ۔ آپ نے اس کی تفصیل طلب نہیں کی‘ نیز چونکہ جماع مخفی چیز ہے‘ لہٰذا صحیح بات یہی ہے کہ ہر خلع والی عورت ایک حیض عدت گزارے تاکہ شک وشبہ نہ رہے۔
(2) یہ بات یاد رہے کہ خلع میں رجوع تو نہیں ہوسکتا مگر بعد میں دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے کیونکہ یہ تین طلاق کے حکم میں ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3528]

Sunan an-Nasa'i Hadith 3528 in Urdu