سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب : الصفرة والكدرة
باب: زرد اور مٹیالے رنگ کے حیض میں داخل نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 368
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: قالت أُمُّ عَطِيَّةَ:" كُنَّا لَا نَعُدُّ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ شَيْئًا".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا (نسیبہ) کہتی ہیں کہ ہم لوگ زردی اور مٹیالا پن کو کچھ نہیں شمار کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 25 (326)، سنن ابی داود/الطھارة 199 (308)، سنن ابن ماجہ/فیہ 127 (647)، (تحفة الأشراف 18096) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کا شمار حیض میں نہیں کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم عطية الأنصارية، أم عطية | صحابية | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أم عطية الأنصارية | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر إسماعيل بن علية الأسدي ← أيوب السختياني | ثقة حجة حافظ | |
👤←👥عمرو بن أبي عمرو الكلابى، أبو محمد عمرو بن أبي عمرو الكلابى ← إسماعيل بن علية الأسدي | ثقة ثبت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 368 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 368
368۔ اردو حاشیہ:
➊ مذکورہ حدیث سے ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ کدرہ اور صفرہ حیض نہیں، مگر یہ بات مطلقاً درست نہیں کیونکہ اس موضوع کی دیگر روایات کو جمع کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر زرد اور مٹیالا پانی حیض کے ساتھ ہوں تو سفید پانی آنے تک انہیں حیض ہی شمار کیا جائے گا، البتہ اگر حیض سے پاک ہو جائیں، غسل کر لیں، اس کے بعد مٹیالا یا زرد پانی شروع ہو جائے یا چند دن گزر جائیں پھر مٹیالا یا زرد پانی آئے تو وہ حیض نہ ہوں گے کیونکہ حیض کی ابتدا گاڑھے سیاہ خون سے ہوتی ہے، البتہ اختتام زرد یا مٹیالے پانی سے ہو سکتا ہے۔ جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے اور یہی درست ہے۔
➋ استحاضے والی عورت ایام حیض ختم ہونے پر غسل کر لے، پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے۔ اس کا ایک وضو سے دو نمازیں پڑھنا درست نہیں۔
➊ مذکورہ حدیث سے ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ کدرہ اور صفرہ حیض نہیں، مگر یہ بات مطلقاً درست نہیں کیونکہ اس موضوع کی دیگر روایات کو جمع کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر زرد اور مٹیالا پانی حیض کے ساتھ ہوں تو سفید پانی آنے تک انہیں حیض ہی شمار کیا جائے گا، البتہ اگر حیض سے پاک ہو جائیں، غسل کر لیں، اس کے بعد مٹیالا یا زرد پانی شروع ہو جائے یا چند دن گزر جائیں پھر مٹیالا یا زرد پانی آئے تو وہ حیض نہ ہوں گے کیونکہ حیض کی ابتدا گاڑھے سیاہ خون سے ہوتی ہے، البتہ اختتام زرد یا مٹیالے پانی سے ہو سکتا ہے۔ جمہور اہل علم کا یہی موقف ہے اور یہی درست ہے۔
➋ استحاضے والی عورت ایام حیض ختم ہونے پر غسل کر لے، پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے۔ اس کا ایک وضو سے دو نمازیں پڑھنا درست نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 368]
محمد بن سيرين الأنصاري ← أم عطية الأنصارية