یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب : فضل الصدقة عن الميت
باب: میت کی طرف سے صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3682
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: (اللہ کے رسول!) میرے والد وصیت کئے بغیر انتقال کر گئے اور مال بھی چھوڑ گئے ہیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کی طرف سے کفارہ (اور ان کے لیے موجب نجات) ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3682]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے والد محترم فوت ہو گئے ہیں، وہ کافی مال چھوڑ گئے ہیں لیکن انہوں نے کوئی وصیت وغیرہ نہیں کی، اگر میں ان کی طرف سے (اپنے طور پر) صدقہ کر دوں تو کیا ان کی یہ غلطی معاف ہو جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3682]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الوصایا 2 (1630)، (تحفة الأشراف: 13984)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الوصایا 8 (2716)، مسند احمد (2/371) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3682 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3682
اردو حاشہ:
”یہ غلطی“ کثرت مال ہونے کے باوجود صدقہ اور وصیت نہ کرنے کی۔ اسے گناہ اس تناظر میں شمار کیا ہے کہ یہ ایک ایسے اجر عظیم سےمحرومی ہے جس کا حصول بالکل ممکن تھا۔ یا مراد عام غلطیاں ہیں‘یعنی میرے صدقہ کرنے سے کیا ان کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
”یہ غلطی“ کثرت مال ہونے کے باوجود صدقہ اور وصیت نہ کرنے کی۔ اسے گناہ اس تناظر میں شمار کیا ہے کہ یہ ایک ایسے اجر عظیم سےمحرومی ہے جس کا حصول بالکل ممکن تھا۔ یا مراد عام غلطیاں ہیں‘یعنی میرے صدقہ کرنے سے کیا ان کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3682]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3682 in Urdu
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي