🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ : تَعْظِيمِ الدَّمِ
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4002
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَجِيءُ الرَّجُلُ آخِذًا بِيَدِ الرَّجُلِ , فَيَقُولُ: يَا رَبِّ , هَذَا قَتَلَنِي. فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: لِمَ قَتَلْتَهُ؟ فَيَقُولُ: قَتَلْتُهُ لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لَكَ. فَيَقُولُ: فَإِنَّهَا لِي، وَيَجِيءُ الرَّجُلُ آخِذًا بِيَدِ الرَّجُلِ , فَيَقُولُ: إِنَّ هَذَا قَتَلَنِي. فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: لِمَ قَتَلْتَهُ؟ فَيَقُولُ: لِتَكُونَ الْعِزَّةُ لِفُلَانٍ. فَيَقُولُ: إِنَّهَا لَيْسَتْ لِفُلَانٍ. فَيَبُوءُ بِإِثْمِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) آدمی آدمی کا ہاتھ پکڑے آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا: میں نے اسے اس لیے قتل کیا تھا تاکہ عزت و غلبہ تجھے حاصل ہو، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ یقیناً میرے ہی لیے ہے، ایک اور شخص ایک شخص کا ہاتھ پکڑے آئے گا اور کہے گا: اس نے مجھے قتل کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تم نے اسے کیوں قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا: تاکہ عزت و غلبہ فلاں کا ہو، اللہ فرمائے گا: وہ تو اس کے لیے نہیں ہے۔ پھر وہ (قاتل) اس کا (جس کے لیے قتل کیا اس کا) گناہ سمیٹ لے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4002]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قیامت کے دن) ایک آدمی دوسرے آدمی کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئے گا اور دہائی دے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ قاتل سے فرمائے گا: تو نے اس کو کیوں قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا: یا اللہ! میں نے اس لیے قتل کیا تاکہ تیرے دین کو غلبہ حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ تو میرا حق ہے۔ ایک اور آدمی ایک دوسرے آدمی کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئے گا اور کہے گا: مولا! اس نے مجھے قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے اسے کیوں قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا: اس لیے کہ فلاں کی عزت اور غلبہ قائم رہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: عزت تو اسے نہیں مل سکتی، پھر وہ قاتل اپنے گناہ سمیت لوٹے گا۔ (اپنے کیے کی سزا پائے گا)۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4002]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9482) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث آیت کریمہ «ولا تزر وازرة وزر أخرء» کے منافی اور خلاف نہیں ہے، اس لیے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی دوسرے کا گناہ ایسے شخص پر نہیں لادا جا سکتا جس کا اس گناہ سے نہ تو ذاتی تعلق ہے اور نہ ہی اس کے کسی ذاتی فعل کا اثر ہے، اور یہاں جس قتل ناحق کا تذکرہ ہے اس میں اس شخص کا تعلق اور اثر موجود ہے جس کی عزت و تکریم یا حکومت کی خاطر قاتل نے اس قتل کو انجام دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن شرحبيل الهمداني، أبو ميسرة
Newعمرو بن شرحبيل الهمداني ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← عمرو بن شرحبيل الهمداني
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة
👤←👥عمرو بن عاصم القيسي، أبو عثمان
Newعمرو بن عاصم القيسي ← معتمر بن سليمان التيمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥إبراهيم بن المستمر الهذلي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن المستمر الهذلي ← عمرو بن عاصم القيسي
صدوق حسن الحديث
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4002 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4002
اردو حاشہ:
(1) ”اپنے گناہ سمیت لوٹے گا“ یعنی قاتل اپنے کیے کی سزا پائے گا۔ اس کے دوسرے معنیٰ یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ پھر قاتل پر مقتول کے گناہ لاد دئیے جائیں گے جو کہ قتل کا عوض ہو گا۔ نتیجے کے لحاظ سے دونوں معانی میں کوئی فرق نہیں۔ و اللہ أعلم۔
(2) اس حدیث میں دو قسم کے قاتلوں کا ذکر ہے: ایک وہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی خاطر کسی کافر کو قتل کرتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر یہ قتل جائز ہے بلکہ اس سے ثواب حاصل ہو گا، مثلاً: جہاد کے دوران میں یا حدود کے نفاذ کی خاطر۔ دوسرا قتل جو حکومت، سرداری، انا اور عزت کی خاطر کیا جاتا ہے (اپنی ہو یا کسی کی)۔ یہ قتل جرم ہے۔ اس قاتل کو اپنے کیے کی سزا بھگتنی ہو گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4002]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4002 in Urdu