🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : ذكر الكبائر
باب: کبائر (کبیرہ گناہوں) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4014
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، أَنَّ أَبَا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَاءَ يَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ، كَانَ لَهُ الْجَنَّةُ"، فَسَأَلُوهُ عَنِ الْكَبَائِرِ؟ فَقَالَ:" الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ، وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا، نماز قائم کرتا ہے، زکاۃ دیتا ہے اور کبائر سے دور اور بچتا ہے۔ اس کے لیے جنت ہے، لوگوں نے آپ سے کبائر کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، کسی مسلمان جان کو (ناحق) قتل کرنا اور لڑائی کے دن میدان جنگ سے بھاگ جانا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4014]
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کے پاس اس حال میں حاضر ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہو، نماز پابندی کے ساتھ پڑھتا رہا ہو، زکوٰۃ (پوری کی پوری) دیتا رہا ہو اور کبیرہ گناہوں سے بچا رہا ہو، اس کے لیے جنت ہے۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا (کہ وہ کون کون سے ہیں؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بطور مثال) ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا، مسلمان شخص کو قتل کرنا اور لڑائی کے دن بھاگ جانا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4014]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3451)، مسند احمد (5/413، 414) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کبیرہ: ہر اس گناہ کو کہتے ہیں جس کے مرتکب کو جہنم کے عذاب اور سخت وعید کی دھمکی دی گئی ہو، ان میں سے بعض کا تذکرہ احادیث میں آیا ہے، اور جن کا تذکرہ لفظ کبیرہ کے ساتھ نہیں آیا ہے مگر مذکورہ سزا کے ساتھ آیا ہے، وہ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہیں۔ کبائر تین طرح کے ہیں: (۱) پہلی قسم اکبر الکبائر کی ہے جیسے اشراک باللہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لائے ہیں اس کی تکذیب کرنا۔ (۲) اور دوسرے درجے کے کبائر حقوق العباد کے تعلق سے ہیں مثلاً کسی کو ناحق قتل کرنا، دوسرے کا مال غصب کرنا اور ہتک عزت کرنا وغیرہ۔ (۳) تیسرے درجے کے کبائر کا تعلق حقوق اللہ سے ہے، مثلاً زنا اور شراب نوشی وغیرہ۔ (جیسے حدیث رقم ۴۰۱۷) میں کبائر کی تعداد سات آئی ہے، لیکن متعدد احادیث میں ان سات کے علاوہ کثیر تعداد میں دیگر گناہوں کو بھی کبیرہ کہا گیا ہے۔ اس لیے وہاں حصر اور استقصاء مقصود نہیں ہے (دیکھئیے: فتح الباری کتاب الحدود، باب رمی المحصنات)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو أيوب الأنصاري، أبو أيوبصحابي
👤←👥أحزاب بن راشد السماعي، أبو رهم
Newأحزاب بن راشد السماعي ← أبو أيوب الأنصاري
ثقة مخضرم
👤←👥خالد بن معدان الكلاعي، أبو عبد الله
Newخالد بن معدان الكلاعي ← أحزاب بن راشد السماعي
ثقة
👤←👥بحير بن سعد السحولي، أبو خالد
Newبحير بن سعد السحولي ← خالد بن معدان الكلاعي
ثقة ثبت
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد
Newبقية بن الوليد الكلاعي ← بحير بن سعد السحولي
صدوق كثير التدليس عن الضعفاء
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← بقية بن الوليد الكلاعي
ثقة حافظ إمام
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4014 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4014
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث میں دین کے بنیادی اصول اور ان کی اہمیت بیان کی گئی ہے کہ ان امور پر قائم رہنا اور ان کے منافی امور سے بچنا ہی جنت میں دخول کا سبب بن سکتا ہے۔
(2) اس کے لیے جنت ہے کیونکہ یہ نیکیاں باقی گناہوں پر غالب آ جائیں گی اور فیصلہ غالب کی بنیاد پر ہو گا ورنہ غلطی سے پاک تو کوئی شخص بھی نہیں۔ الا ما شاء اللہ۔
(3) اس حدیث میں صرف تین گناہوں کو کبیرہ کہا گیا ہے جبکہ قرآن و سنت کے دیگر دلائل سے اور بھی بہت سے گناہ کبیرہ قرار پاتے ہیں۔ یہ تین گناہ بطور مثال بیان کیے گئے ہیں بطور حصر نہیں، کیونکہ کبیرہ گناہ صرف یہی نہیں۔ کبیرہ گناہوں کی بابت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے استفسار کا جواب دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مذکورہ تین گناہوں کا ذکر فرمایا ہے، اس موقع پر ان کے علاوہ اور کسی گناہ کا آپ نے نام نہیں لیا، ممکن ہے کہ اس جواب سے اس وقت آپ کا مقصد اسی بات کی طرف اشارہ فرمانا ہو کہ کبیرہ گناہ کسی خاص قسم یا کسی ایک صفت میں محصور نہیں بلکہ کسی معاملے میں حقوق اللہ کی تلفی کبیرہ گناہ ہوتی ہے تو کسی معاملے میں مسلم معاشرے کے مسلمان افراد کی حق تلفی کبیرہ گناہ ہوتی ہے اور اسی طرح کبھی کافروں کے ساتھ کوئی معاملہ درپیش ہو تو اس میں بھی آدمی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو سکتا ہے، اس لیے ہر حال میں اور ہر موقع پر ایک مسلمان شخص کو انتہائی محتاط زندگی بسر کرنی چاہیے۔
(4) کبیرہ گناہوں سے بچنے کی وجہ سے صغیرہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ و اللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4014]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4014 in Urdu