🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ : قَتْلِ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ عَنْ عَرْفَجَةَ فِيهِ
باب: جماعت سے الگ ہونے والے شخص کو قتل کرنے کا بیان اور زیاد بن علاقہ کی عرفجہ سے روایت پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4028
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ يُفَرِّقُ بَيْنَ أُمَّتِي , فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ".
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص میری امت میں پھوٹ ڈالنے کو نکلے اس کی گردن اڑا دو“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4028]
حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص میری امت میں پھوٹ ڈالنے کے لیے نکلے، اس کی گردن اڑا دو۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4028]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 129) (صحیح) (اس کے راوی ”زید بن عطاء“ لین الحدیث ہیں، لیکن پچھلی روایتوں سے یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسامة بن شريك الذبيانيصحابي
👤←👥زياد بن علاقة الثعلبي، أبو مالك
Newزياد بن علاقة الثعلبي ← أسامة بن شريك الذبياني
ثقة
👤←👥زيد بن عطاء الثقفي
Newزيد بن عطاء الثقفي ← زياد بن علاقة الثعلبي
مقبول
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← زيد بن عطاء الثقفي
ثقة
👤←👥محمد بن قدامة المصيصي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن قدامة المصيصي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4028 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4028
اردو حاشہ:
امت سے الگ ہونے والا یا امت میں پھوٹ ڈالنے والا مرتد اور مسملانوں کی جماعت سے الگ ہے۔ اس کا قتل جائز ہے مگر اسے قتل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، عوام الناس اپنے طور پر قتل نہیں کر سکتے کیونکہ فتنہ و فساد کا خطر ہ ہے۔ اسی طرح حدود کا نفاذ بھی حکومت ہی کر سکتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4028]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4028 in Urdu