سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ : ذِكْرِ اخْتِلاَفِ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں یحییٰ بن سعید سے روایت کرنے میں طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4046
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَنَزَلَتْ فِيهِمْ آيَةُ الْمُحَارَبَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اسی طرح کا واقعہ) نقل کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ انہیں کے سلسلے میں آیت محاربہ نازل ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4046]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمائی ہے، اس میں یہ لفظ بھی ہیں کہ ان کے بارے میں محاربہ والی آیت اتری۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4046]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 3 (4369، 4370)، (تحفة الأشراف: 7275) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4046 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4046
اردو حاشہ:
(1) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔ لیکن یہ روایت شواہد کی بنا پر حسن بن جاتی ہے جیسا کہ محقق کتاب نے بھی شواہد کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک روایت کا حوالہ دیا ہے اور اس پر سنداً حسن ہونے کا حکم لگایا ہے، نیز دیگر محققین نے بھی اسے صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔ دیکھئے: (صحیح سنن النسائي للألباني، رقم: 4052، و ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 31/353، 354)
(2) محاربہ والی آیت سے مراد وہی آیت ہے جو ان احادیث سے پہلے ذکر کی گئی ہے، یعنی: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں اس سزا کا ذکر ہے جو عرینہ کے لوگوں کو دی گئی۔
(1) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔ لیکن یہ روایت شواہد کی بنا پر حسن بن جاتی ہے جیسا کہ محقق کتاب نے بھی شواہد کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک روایت کا حوالہ دیا ہے اور اس پر سنداً حسن ہونے کا حکم لگایا ہے، نیز دیگر محققین نے بھی اسے صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔ دیکھئے: (صحیح سنن النسائي للألباني، رقم: 4052، و ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 31/353، 354)
(2) محاربہ والی آیت سے مراد وہی آیت ہے جو ان احادیث سے پہلے ذکر کی گئی ہے، یعنی: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں اس سزا کا ذکر ہے جو عرینہ کے لوگوں کو دی گئی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4046]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4046 in Urdu
عبد الله بن عبيد الله القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي