🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب : ما يفعل من تعرض لماله
باب: کسی کا مال لوٹا جائے تو وہ کیا کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4086
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح , وأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ , قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَأْتِينِي فَيُرِيدُ مَالِي. قَالَ:" ذَكِّرْهُ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَذَّكَّرْ. قَالَ:" فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ مَنْ حَوْلَكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ". قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ حَوْلِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ:" فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ بِالسُّلْطَانِ". قَالَ: فَإِنْ نَأَى السُّلْطَانُ عَنِّي. قَالَ:" قَاتِلْ دُونَ مَالِكَ حَتَّى تَكُونَ مِنْ شُهَدَاءِ الْآخِرَةِ أَوْ تَمْنَعَ مَالَكَ".
مخارق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا: میرے پاس ایک شخص آتا ہے اور میرا مال چھینتا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو تم اسے اللہ کی یاد دلاؤ، اس نے کہا: اگر وہ اللہ کو یاد نہ کرے، آپ نے فرمایا: تو تم اس کے خلاف اپنے اردگرد کے مسلمانوں سے مدد طلب کرو۔ اس نے کہا: اگر میرے اردگرد کوئی مسلمان نہ ہو تو؟ آپ نے فرمایا: حاکم سے مدد طلب کرو۔ اس نے کہا: اگر حاکم بھی مجھ سے دور ہو؟ آپ نے فرمایا: اپنے مال کے لیے لڑو، یہاں تک کہ اگر تم مارے گئے تو آخرت کے شہداء میں سے ہو گے ۱؎ یا اپنے مال کو بچا لو گے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4086]
حضرت قابوس کے والد محترم حضرت مخارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور میرا مال چھیننا چاہتا ہے۔ (تو میں کیا کروں؟) آپ نے فرمایا: اسے اللہ تعالیٰ سے نصیحت کر (اس کی وعید سے ڈرا)۔ اس نے کہا: اگر وہ نصیحت نہ مانے تو؟ آپ نے فرمایا: اپنے آس پاس کے مسلمانوں سے مدد حاصل کر۔ اس نے کہا: اگر میرے آس پاس کوئی مسلمان نہ ہوں تو؟ آپ نے فرمایا: حاکم سے مدد طلب کر۔ اس نے کہا: اگر حاکم بھی مجھ سے دور ہو؟ فرمایا: پھر اپنے مال کی حفاظت کے لیے لڑائی کر حتیٰ کہ تو (مارا جائے اور) آخرت میں شہید بن جائے یا اپنے مال کو بچا لے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11242)، مسند احمد (5/294-295) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: اجر و ثواب کے لحاظ سے ایسا آدمی شہداء میں سے ہو گا لیکن عام مردوں کی طرح اس کو غسل دیا جائے گا اور تجہیز و تدفین کی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد اللهثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥مخارق بن سليمان الشيباني، أبو قابوس
Newمخارق بن سليمان الشيباني ← سفيان الثوري
مختلف في صحبته
👤←👥قابوس بن أبي المخارق الشيباني
Newقابوس بن أبي المخارق الشيباني ← مخارق بن سليمان الشيباني
صدوق حسن الحديث
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← قابوس بن أبي المخارق الشيباني
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة متقن
👤←👥خلف بن تميم التميمي، أبو عبد الرحمن
Newخلف بن تميم التميمي ← سلام بن سليم الحنفي
ثقة
👤←👥علي بن محمد المصيصي
Newعلي بن محمد المصيصي ← خلف بن تميم التميمي
ثقة
👤←👥مخارق بن سليمان الشيباني، أبو قابوس
Newمخارق بن سليمان الشيباني ← علي بن محمد المصيصي
مختلف في صحبته
👤←👥قابوس بن أبي المخارق الشيباني
Newقابوس بن أبي المخارق الشيباني ← مخارق بن سليمان الشيباني
صدوق حسن الحديث
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← قابوس بن أبي المخارق الشيباني
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة متقن
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← سلام بن سليم الحنفي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4086 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4086
اردو حاشہ:
(1) باب کے ساتھ حدیث کی مناسبت بالکل واضح ہے، وہ اس طرح کہ جس شخص سے اس کا مال چھینا جا رہا ہو، اس کے لیے دفاع کرنا جائز ہے۔
(2) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دفاع کرنا اگرچہ درست ہے، تاہم یہ کام تدریجاً کرنا زیادہ بہتر ہے، یعنی پہلے ڈاکو وغیرہ کو اللہ تعالیٰ کی پکڑ، اس کے مؤاخذے اور عذاب سے ڈرایا جائے۔ اگر اس کا اثر نہ ہو تو آس پاس کے مسلمانوں سے اس کے خلاف مدد لی جائے۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو حاکم وقت سے مدد طلب کی جائے۔ جب کوئی او چارۂ کار نہ ہو تو لڑنا اور اسے قتل کرنا یا اس کے ہاتھوں شہید ہونا جائز ہے۔ ہاں، اس مقابلے میں اگر ڈاکو اور لٹیرا مارا جائے تو اس کا خون ضائع ہے۔ اپنا دفاع کرنے والے شخص سے نہ تو قصاص لیا جائے گا اور نہ اس پر کسی قسم کی کوئی دیت وغیرہ ہی آئے گی۔ واللہ أعلم
(3) اس حدیث شریف سے واضح طور پر یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑائی کرنا آخری چارۂ کار ہے۔ اس سے پہلے ہر ممکن ذرائع سے لڑائی سے بچا جائے کیونکہ لڑائی نقصان والی چیز ہے، البتہ اگر کوئی چارۂ کار نہ رہے تو اپنا مال بچانے کے لیے لڑائی کی جا سکتی ہے۔ اس دوران میں اگر وہ خود مارا جائے تو شہید ہو گا، یعنی عظیم ثواب کا مستحق ہو گا اور اگر وہ ڈاکو کو مار دے تو اس پر کوئی قصاص، دیت یا تاوان عائد نہ ہو گا جیسا کہ اس سے پہلے بھی یہ بیان ہو چکا ہے۔ لیکن لڑائی سے پہلے یہ دیکھ لے کہ میں اس کا ہم پلہ بھی ہوں؟ یعنی میرے پاس بھی اسلحہ وغیرہ ہے۔ خالی ہاتھ مسلح آدمی سے لڑنا حماقت ہے۔ جان یقینا مال سے زیادہ قیمتی ہے اور قرآن مجید کا حکم ہے کہ اپنے آپ کو خواہ مخواہ ہلاکت میں نہ ڈالو گویا لڑائی واجب نہیں، جائز ہے بشرطیکہ وہ ڈاکو کا مقابلہ بھی کر سکتا ہو۔ پھر زندگی، موت اللہ کے سپرد ہے۔ البتہ عزت بچانے کے لیے بے دریغ بھی لڑ پڑے تو اجر کا مستحق ہو گا اور مارے جانے کی صورت میں شہید ہو گا۔
(4) اس حدیث میں جو شہید کہا گیا ہے اس سے مراد شہید معرکہ نہیں بلکہ آخرت میں ثواب کے اعتبار سے اسے شہید قرار دیا گیا ہے، چنانچہ ایسے شخص کو غسل بھی دیا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4086]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4086 in Urdu