سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ : تَحْرِيمِ الْقَتْلِ
باب: قتل کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4123
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا , فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَهُمَا فِي النَّارِ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ:" أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ آمنے سامنے ہوں اور ان میں ایک دوسرے کو قتل کر دے تو وہ دونوں جہنم میں ہوں گے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! یہ تو قاتل ہے، لیکن مقتول کا قصور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے اپنے (مقابل) ساتھی کو مارنا چاہا تھا“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4123]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابل آ جائیں، پھر ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو وہ دونوں جہنم میں جائیں گے۔“ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! قاتل کا جہنم میں جانا تو سمجھ میں آتا ہے مگر مقتول کے جہنم میں جانے کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا ارادہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا تھا۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الفتن 11 (3964)، (تحفة الأشراف: 8984)، مسند احمد (4/401، 403، 410، 418) ویأتي عند المؤلف فیما یلي وبرقم4129 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3964
| إذا التقى المسلمان بسيفيهما فالقاتل والمقتول في النار قالوا يا رسول الله هذا القاتل فما بال المقتول قال إنه أراد قتل صاحبه |
سنن النسائى الصغرى |
4123
| إذا تواجه المسلمان بسيفيهما فقتل أحدهما صاحبه فهما في النار قيل يا رسول الله هذا القاتل فما بال المقتول قال أراد قتل صاحبه |
سنن النسائى الصغرى |
4124
| إذا تواجه المسلمان بسيفيهما فقتل أحدهما صاحبه فهما في النار |
سنن النسائى الصغرى |
4129
| إذا تواجه المسلمان بسيفيهما فقتل أحدهما صاحبه فالقاتل والمقتول في النار قال رجل يا رسول الله هذا القاتل فما بال المقتول قال إنه أراد قتل صاحبه |
Sunan an-Nasa'i Hadith 4123 in Urdu
الحسن البصري ← عبد الله بن قيس الأشعري