سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ : بِطَانَةِ الإِمَامِ
باب: امام اور حاکم کے راز دار اور مشیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4208
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا بُعِثَ مِنْ نَبِيٍّ، وَلَا كَانَ بَعْدَهُ مِنْ خَلِيفَةٍ، إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا، فَمَنْ وُقِيَ بِطَانَةَ السُّوءِ فَقَدْ وُقِيَ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا گیا اور نہ اس کے بعد کوئی خلیفہ ایسا ہوا جس کے دو مشیر و راز دار نہ ہوں۔ ایک مشیر و راز دار اسے بھلائی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے اور دوسرا اسے بگاڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا۔ لہٰذا جو خراب مشیر سے بچ گیا وہ (برائی اور فساد سے) بچ گیا“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4208]
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو بھی نبی مبعوث ہوئے یا جو ان کے بعد خلیفہ بنے، ان کے مشیر دو قسم کے ہوتے تھے۔ ایک مشیر تو ان کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور برائی سے روکتے تھے اور دوسرے ان کو خراب کرنے کی پوری کوشش کرتے تھے۔ جو شخص برے مشیر سے بچ گیا، وہ حقیقتاً بچ گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4208]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأحکام 42 (7198 تعلیقا)، (تحفة الأشراف: 3494) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4208 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4208
اردو حاشہ:
(1) ”مشیر“ عربی میں لفظ بطانۃ استعمال ہوا ہے۔ اس کے لفظی معنیٰ رازدان اور مشیر کے ہیں۔ گہرے دوست کو بھی بطانۃ کہہ لیا جاتا ہے کیونکہ یہ بھی راز دان ہوتا ہے۔
(2) ”حقیقتاً بچ گیا“ دنیا میں خرابی، ذلت اور رسوائی سے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب سے۔ خلق بھی راضی، خالق بھی راضی۔
(1) ”مشیر“ عربی میں لفظ بطانۃ استعمال ہوا ہے۔ اس کے لفظی معنیٰ رازدان اور مشیر کے ہیں۔ گہرے دوست کو بھی بطانۃ کہہ لیا جاتا ہے کیونکہ یہ بھی راز دان ہوتا ہے۔
(2) ”حقیقتاً بچ گیا“ دنیا میں خرابی، ذلت اور رسوائی سے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب سے۔ خلق بھی راضی، خالق بھی راضی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4208]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4208 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو أيوب الأنصاري