🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ : مَا يُدْبَغُ بِهِ جُلُودُ الْمَيْتَةِ
باب: مردار کی کھال کو دباغت دینے والی چیزوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4253
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ حَدَّثَهُ، عَنِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهَا، أَنَّهُ مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِصَانِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا"، قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قریش کے کچھ لوگ گزرے، وہ اپنی ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ رہے تھے، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم لوگ اس کی کھال رکھ لیتے (تو بہتر ہوتا)، انہوں نے کہا: وہ مردار ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور سلم درخت کا پتا (جس سے دباغت دی جاتی ہے) پاک کر دیتے ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4253]
حضرت عالیہ بنت سبیع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے کچھ قریشی گزرے، وہ اپنی ایک مری ہوئی بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ کر لے جا رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: اگر تم اس کا چمڑا اتار لیتے (تو اچھا ہوتا)۔ انہوں نے کہا: یہ تو مری ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: اسے پانی اور کیکر کا چھلکا پاک کر دیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 41 (4126)، (تحفة الأشراف: 18084)، مسند احمد (6/333، 334) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ ضروری نہیں کہ ہمارے زمانہ میں بھی دباغت کے لیے پانی کے ساتھ ساتھ اس دور کے کانٹے دار درخت ہی کا استعمال کیا جائے، موجودہ ترقی یافتہ زمانہ میں جس پاک چیز سے بھی دباغت دی جائے مقصد حاصل ہو گا لیکن اس کے ساتھ پانی کا استعمال ضروری ہے ( «قرظ» : ایک سلم نامی کانٹے دار درخت کے پتے)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ميمونة بنت الحارث الهلاليةصحابية
👤←👥العالية بنت سبيع المدنية
Newالعالية بنت سبيع المدنية ← ميمونة بنت الحارث الهلالية
ثقة
👤←👥عبد الله بن مالك الحجازي، أبو حذافة
Newعبد الله بن مالك الحجازي ← العالية بنت سبيع المدنية
مقبول
👤←👥كثير بن فرقد المدني
Newكثير بن فرقد المدني ← عبد الله بن مالك الحجازي
ثقة
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← كثير بن فرقد المدني
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥سليمان بن داود المهري، أبو الربيع
Newسليمان بن داود المهري ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4126
لو أخذتم إهابها قالوا إنها ميتة فقال رسول الله يطهرها الماء والقرظ
سنن النسائى الصغرى
4253
لو أخذتم إهابها قالوا إنها ميتة فقال رسول الله يطهرها الماء والقرظ
بلوغ المرام
18
‏‏‏‏لو اخذتم إهابها؟ فقالوا: إنها ميتة،‏‏‏‏ فقال: ‏‏‏‏يطهرها الماء والقرظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4253 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4253
اردو حاشہ:
یہ حدیث اس بات پر دلات کرتی ہے کہ مردار جانور کے کچے چمڑے کورنگنے کے لیے پانی اور کیکر کی چھال ضروری ہے یا اسی قسم کی صلاحیت رکھنے والا ایسا کیمیکل جو چمڑے کی بو اور رطوبت کو ختم کر دے، اس کا استعمال بھی جائز ہے۔ مقصود دباغت ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4253]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 18
دباغت (رنگائی) کے بعد ہر قسم کا چمڑا پاک ہو جاتا ہے
«. . . إنها ميتة،‏‏‏‏ فقال: ‏‏‏‏يطهرها الماء والقرظ . . .»
. . . وہ تو مری ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر فرمایا پھر کیا ہوا؟) اس کو پانی اور کیکر کی چھال پاک کر دیتی ہے . . . [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 18]
لغوی تشریح:
«اَلْقَرَظُ» قاف اور را کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ کیکر کے پتے اور چھال۔ اس وقت عرب میں اس کے ساتھ چمڑے کی دباغت مشہور و معروف تھی۔

فائدہ:
یہ اور پہلی دونوں احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ مردار کے چمڑے دباغت سے پاک ہو جاتے ہیں۔ ان سے برتن بنانا اور ان برتنوں سے وضو وغیرہ کرنا جائز ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 18]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4126
مردہ جانور کی کھال کا بیان۔
عالیہ بنت سبیع کہتی ہیں کہ میری کچھ بکریاں احد پہاڑ پر تھیں وہ مرنے لگیں تو میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے مجھ سے کہا: اگر تم ان کی کھالوں سے فائدہ اٹھاتیں! تو میں بولی: کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قریش کے کچھ لوگ ایک مری ہوئی بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹتے ہوئے گزرے، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے اس کی کھال لے لی ہوتی لوگوں نے عرض کیا: وہ تو مری ہوئی ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی اور بیر کی پتی اس ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4126]
فوائد ومسائل:
درج ذیل باب کے بعد والے باب میں درندوں کی کھالوں سے ممانعت کی احادیث سےثابت ہوتا ہے، صرف حلال جانوروں کی کھال ہی رنگنے سے پاک ہوتی ہے نہ کہ حرام جانوروں اور درندوں کھالیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4126]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4253 in Urdu