سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب : في الذي يرمي الصيد فيقع في الماء
باب: تیر کھا کر پانی میں گر جانے والے شکار کا بیان۔
حدیث نمبر: 4303
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ؟، فَقَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ سَهْمَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قُتِلَ فَكُلْ، إِلَّا أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِي مَاءٍ وَلَا تَدْرِي الْمَاءُ قَتَلَهُ، أَوْ سَهْمُكَ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: ”جب تم اپنا تیر چلاؤ تو اللہ کا نام لو پھر اگر تم دیکھو کہ وہ اس تیر سے مر گیا تو اسے کھاؤ إلا یہ کہ وہ پانی میں گر جائے، اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ وہ پانی سے مرا ہے یا تیر سے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4303]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”جب تو تیر چلائے تو «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھ لے۔ اگر وہ تیر جانور کو قتل بھی کر دے تو بھی کھا لے الا یہ کہ تو اسے پانی میں گرا ہوا پائے۔ تجھے کیا علم کہ اسے پانی نے مارا ہے یا تیرے تیر نے؟“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4303]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4268 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عدي بن حاتم الطائي، أبو طريف، أبو وهب | صحابي | |
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو عامر الشعبي ← عدي بن حاتم الطائي | ثقة | |
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن عاصم الأحول ← عامر الشعبي | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن المبارك الحنظلي ← عاصم الأحول | ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير | |
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر أحمد بن منيع البغوي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
4303
| إذا رميت سهمك فاذكر اسم الله فإن وجدته قد قتل فكل إلا أن تجده قد وقع في ماء ولا تدري الماء قتله أو سهمك |
صحيح مسلم |
4982
| إذا رميت سهمك فاذكر اسم الله فإن وجدته قد قتل فكل إلا أن تجده قد وقع في ماء فإنك لا تدري الماء قتله أو سهمك |
سنن أبي داود |
2850
| إذا وقعت رميتك في ماء فغرق فمات فلا تأكل |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4303 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4303
اردو حاشہ:
کسی زخمی جانور یا پرندے کے محض پانی میں گرنے سے وہ شکار حرام نہیں ہو جاتا بلکہ حرام اس صورت میں ہو گا جب پانی میں گرنے ہی سے اس کی موت واقع ہوئی ہو۔ اگر پانی میں اس انداز میں گرے کہ اسے زندہ حالت میں پا لیا جائے تو اسے ذبح کر کے کھانا درست ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پانی کے اندر ڈوب کر نہ مرا ہو۔
کسی زخمی جانور یا پرندے کے محض پانی میں گرنے سے وہ شکار حرام نہیں ہو جاتا بلکہ حرام اس صورت میں ہو گا جب پانی میں گرنے ہی سے اس کی موت واقع ہوئی ہو۔ اگر پانی میں اس انداز میں گرے کہ اسے زندہ حالت میں پا لیا جائے تو اسے ذبح کر کے کھانا درست ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پانی کے اندر ڈوب کر نہ مرا ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4303]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4303 in Urdu
عامر الشعبي ← عدي بن حاتم الطائي