🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب : إباحة أكل العصافير
باب: گوریا کھانے کی اباحت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4354
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا مِنْ إِنْسَانٍ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا، إِلَّا سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا؟، قَالَ:" يَذْبَحُهَا فَيَأْكُلُهَا، وَلَا يَقْطَعُ رَأْسَهَا يَرْمِي بِهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی انسان کسی گوریا، یا اس سے بھی زیادہ چھوٹی چڑیا کو ناحق قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اس کے متعلق سوال کرے گا، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ اسے ذبح کرے اور کھائے اور اس کا سر کاٹ کر نہ پھینکے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4354]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چڑیا یا اس سے بھی چھوٹے جانور کو ناحق قتل کرے، اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس سے اس کے بارے میں پوچھے گا۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! اس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ذبح کر کے کھائے، اس کا سر کاٹ کر نہ پھینک دے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8829)، مسند احمد (2/166، 197، 210)، سنن الدارمی/الأضاحي 16 (2021)، ویأتي عند المؤلف في الضحایا 42 (برقم: 4450) (حسن) (تراجع الالبانی 457، صحیح الترغیب والت رہیب 2266)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث گرچہ ضعیف ہے، لیکن دیگر دلائل سے گوریا حلال پرندوں میں سے ہے (دیکھئیے پچھلی حدیث)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥صهيب الهاشمي
Newصهيب الهاشمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← صهيب الهاشمي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن عبد الله المقرئ، أبو يحيى
Newمحمد بن عبد الله المقرئ ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4354 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4354
اردو حاشہ:
(1) اس سے بھی چھوٹا جانور مثلاً ٹڈی۔ یہ معنیٰ بھی ہو سکتا ہے چڑیا یا اس سے بڑا جانور مثلاً: مرغی، کبوتر وغیرہ فَمَا فَوْقَھَا میں یہ دونوں مفہوم پائے جاتے ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں۔
(2) بعض لوگ شغلاً شکار کرتے ہیں۔ کھانا مقصد نہیں ہوتا بلکہ یا تو کتے بھگانے کا شوق ہوتا ہے یا نشانہ بازی کا اور وہ اپنے شوق کو شکار کی صورت میں پورا کرتے ہیں، یہ شرعاً گناہ ہے۔ کسی بھی جاندار چیز کو بلا وجہ قتل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وہ حلال جانور ہے تو اسے صرف کھانے کے لیے شکار یا ذبح کیا جا سکتا ہے اور اگر وہ حرام جانور ہے تو اس کے نقصان سے بچنے کے لیے ہی اسے مارا جا سکتا ہے۔ یا دوسری معاشی ضروریات کے لیے، مثلاً: کاروبار جیسے ہاتھی کے دانت۔ صرف شوق پورا کرنے کے لیے کسی جاندار کو ضائع نہیں کیا جا سکتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4354]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4354 in Urdu