🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب : إباحة أكل لحوم الدجاج
باب: مرغی کے گوشت کے حلال ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4353
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ بِشْرٍ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن پنجے والے تمام پرندوں کو کھانے سے اور دانت (سے پھاڑنے) والے تمام درندوں کو کھانے سے روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4353]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پنجے کے ساتھ شکار کرنے والے پرندے اور کچلی والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأطعمة 33 (3803)، سنن ابن ماجہ/الصید 13 (3805)، (تحفة الأشراف: 5639)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصید 3 (1934)، مسند احمد (1/ 339) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور چونکہ مرغی ان میں سے نہیں ہے اس لیے حلال ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3805) ابن ماجه (3234) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥ميمون بن مهران الجزري، أبو أيوب
Newميمون بن مهران الجزري ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥علي بن الحكم البناني، أبو الحكم
Newعلي بن الحكم البناني ← ميمون بن مهران الجزري
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← علي بن الحكم البناني
ثقة حافظ
👤←👥بشر بن المفضل الرقاشي، أبو إسماعيل
Newبشر بن المفضل الرقاشي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥إسماعيل بن مسعود الجحدري، أبو مسعود
Newإسماعيل بن مسعود الجحدري ← بشر بن المفضل الرقاشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5017
حرمه في يوم خيبر لحوم الحمر الأهلية
صحيح مسلم
4996
عن كل ذي ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير
صحيح مسلم
4994
عن كل ذي ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير
سنن أبي داود
3805
عن أكل كل ذي ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير
سنن أبي داود
3803
عن أكل كل ذي ناب من السبع وعن كل ذي مخلب من الطير
سنن ابن ماجه
3234
عن أكل كل ذي ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير
سنن النسائى الصغرى
4353
نهى يوم خيبر عن كل ذي مخلب من الطير عن كل ذي ناب من السباع
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4353 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4353
اردو حاشہ:
ظاہراً تو اس حدیث کا باب سے تعلق نہیں بتنا بلکہ اس کے لیے الگ باب ہونا چاہیے تھا، تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ مرغ پنجے کے ساتھ شکار کرنے والا پرندہ نہیں، لہٰذا حلال ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4353]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3803
درندہ (پھاڑ کھانے والے جانور) کھانے کی ممانعت کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت والے درندے، اور ہر پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3803]
فوائد ومسائل:
فائدہ: وہ پرندے جو اپنے پنجوں ناخنوں سے اپنا شکار پکڑیں۔
اور چیر پھاڑ کر کھایئں وہ حرام ہیں۔
جیسے کہ شاہین باز اور گدھ وغیرہ اس طرح درندوں میں نیش دار درندے حرام ہیں۔
جیسے شیر بھیڑیا وغیرہ۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3803]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3234
کچلیوں والے درندوں کو کھانا حرام ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ہر کچلی (نوک دار دانت) والے درندے اور پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3234]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ روایت اس سے کفایت کرتی ہے۔
علاوہ ازیں دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کےلیے دیکھیے: (الإرواء، رقم: 2488)

(2)
مخلب شکاری پرندے کے پنجے کے ناخنوں کو کہتے ہیں جن سے وہ اپنے شکار کو پکڑتا اور چیرتا پھاڑتا ہے۔

(3)
شکاری پرندوں میں باز، چیل، گدھ اور شاہین وغیرہ شامل ہیں۔
ان سب کا گوشت حرام ہے جب کہ دانہ دنکا کھانے والے سب پرندے حلال ہیں مگر کوا حرام ہے۔ (دیکھیے حدیث: 3348)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3234]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4994
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے سے اور ہر پنجے والے پرندہ کے کھانے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4994]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ذی مِخلب:
سے مراد وہ پرندہ ہے،
جو اپنے ناخنوں سے شکار کرتا ہے،
جیسے چیل،
باز،
شاہین،
صقر اگر وہ اپنے پنجہ سے شکار نہیں کرتا،
تو وہ اس میں داخل نہیں ہے،
جمہور علماء،
امام ابو حنیفہ،
امام شافعی،
امام احمد،
امام داود وغیرہم کے نزدیک ان کا کھانا حرام ہے،
امام مالک،
امام لیث اور اوزاعی کے نزدیک کوئی پرندہ حرام نہیں ہے۔
(المغني ج: 13،
ص 322)
۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4994]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4996
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے سے اور پنجے والے پرندہ کے کھانے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4996]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
امام اوزاعی نے،
امام مالک کے نزدیک پنجہ سے شکار کرنے والے پرندے کا گوشت مکروہ قرار دیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4996]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5017
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، مجھے معلوم نہیں، (میرے خیال میں یا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس لیے ان سے روکا تھا، کیونکہ وہ لوگوں کا بوجھ اٹھاتے تھے، آپ نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ ان کے بار برداری کے جانور ختم ہو جائیں گے، یا خیبر کے دن آپ نے گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام قرار دیا تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5017]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
حمولة:
لوگوں کی باربرداری کا جانور۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5017]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4353 in Urdu