سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب : قتل النمل
باب: چیونٹیوں کو مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4364
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ:" نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِبَيْتِهِنَّ فَحُرِّقَ عَلَى مَا فِيهَا، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةٌ وَاحِدَةٌ". وقَالَ الْأَشْعَثُ: عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَزَادَ:" فَإِنَّهُنَّ يُسَبِّحْنَ".
حسن بصری سے روایت ہے کہ ایک نبی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے تو انہیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے ان کے گھروں کے بارے میں حکم دیا تو ان میں جو بھی تھا اسے جلا دیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل کی: ”آخر تم نے صرف ایک کو کیوں نہ جلایا“۔ اشعث کہتے ہیں: ابن سیرین سے روایت ہے وہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں یہ زائد ہے ”اس لیے کہ وہ تسبیح (اللہ کی پاکی بیان) کر رہی تھیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12257، 14404)، ویأتي عند المؤلف: 4366) (صحیح) (حدیث اور حسن بصری کا اثر دونوں صحیح ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥أشعث بن عبد الملك الحمراني، أبو هانئ أشعث بن عبد الملك الحمراني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← أشعث بن عبد الملك الحمراني | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥أشعث بن عبد الملك الحمراني، أبو هانئ أشعث بن عبد الملك الحمراني ← الحسن البصري | ثقة | |
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن النضر بن شميل المازني ← أشعث بن عبد الملك الحمراني | ثقة ثبت | |
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب إسحاق بن راهويه المروزي ← النضر بن شميل المازني | ثقة حافظ إمام |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4364 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4364
اردو حاشہ:
اس کا مفہوم یہ ہے کہ اشعث نے یہ روایت دو شیوخ سے بیان کی ہے: ایک حسن بصری سے اور دوسرے محمد بن سیرین سے۔ حسن بصری سے جو روایت ہے، وہ موقوف ہے جبکہ دوسری، یعنی محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے بیان کردہ روایت مرفوع ہے۔ دونوں روایتیں، یعنی موقوف اورمرفوع صحیح ہیں، البتہ دوسری مرفوع روایت میں [فإنهنَّ يسبِّحْنَ ] کے الفاظ زیادہ ہیں۔ موقوف، یعنی حسن بصری رحمہ اللہ والی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔
اس کا مفہوم یہ ہے کہ اشعث نے یہ روایت دو شیوخ سے بیان کی ہے: ایک حسن بصری سے اور دوسرے محمد بن سیرین سے۔ حسن بصری سے جو روایت ہے، وہ موقوف ہے جبکہ دوسری، یعنی محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے بیان کردہ روایت مرفوع ہے۔ دونوں روایتیں، یعنی موقوف اورمرفوع صحیح ہیں، البتہ دوسری مرفوع روایت میں [فإنهنَّ يسبِّحْنَ ] کے الفاظ زیادہ ہیں۔ موقوف، یعنی حسن بصری رحمہ اللہ والی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4364]
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي