سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب :
باب:
حدیث نمبر: 4368
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ الْأَحْلَافِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ:" مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَدَخَلَتْ أَيَّامُ الْعَشْرِ، فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا أَظْفَارِهِ". فَذَكَرْتُهُ لِعِكْرِمَةَ، فَقَالَ: أَلَا يَعْتَزِلُ النِّسَاءَ، وَالطِّيبَ.
تابعی سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ جو شخص قربانی کا ارادہ کرے اور (ذی الحجہ کے ابتدائی) دس دن شروع ہو جائیں تو اپنے بال اور اپنے ناخن نہ کترے، میں نے اس چیز کا ذکر عکرمہ سے کیا تو انہوں نے کہا: وہ عورتوں اور خوشبو سے بھی دور رہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم: 4366 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”شریک القاضی“ حافظے کے کمزور ہیں)»
وضاحت: ۱؎: ان کو اس بابت مرفوع حدیث نہیں پہنچی تھی اس لیے بطور طنز ایسا کہا، ویسے اس کی سند ضعیف ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، شريك القاضي عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 354
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد | أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار | |
👤←👥عثمان بن حكيم الأوسي، أبو سهل عثمان بن حكيم الأوسي ← سعيد بن المسيب القرشي | ثقة | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← عثمان بن حكيم الأوسي | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن علي بن حجر السعدي ← شريك بن عبد الله القاضي | ثقة حافظ |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4368 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4368
اردو حاشہ:
حضرت عکرمہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر حجامت نہیں بنوانی تو پھر عورت اور خوشبو کا استعمال بھی منع ہونا چاہیے کیونکہ محرم سے مشابہت تو تب ہی مکمل ہوگی۔ شاید انھوں نے اسے حضرت سعید بن مسیب کا اپنا قول سمجھا ہوگا۔ اور ان کو مرفوع روایت نہیں پہنچی ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر تو اعتراض ہو ہی نہیں سکتا۔ شریعت نے جتنی پابندی مناسب سمجھی، لگا دی، جیسے وضو اور غسل کا فرق ہے۔ جنبی کے لیے غسل مشروع فرما دیا اور محدث (بے وضو) کے لیے وضو۔ اسی طرح محرم کے لیے زیادہ پابندیاں لگا دیں اور صرف قربانی کرنے والے کے لیے کم۔ یہ کون سی قابل اعتراض بات ہے؟
حضرت عکرمہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر حجامت نہیں بنوانی تو پھر عورت اور خوشبو کا استعمال بھی منع ہونا چاہیے کیونکہ محرم سے مشابہت تو تب ہی مکمل ہوگی۔ شاید انھوں نے اسے حضرت سعید بن مسیب کا اپنا قول سمجھا ہوگا۔ اور ان کو مرفوع روایت نہیں پہنچی ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر تو اعتراض ہو ہی نہیں سکتا۔ شریعت نے جتنی پابندی مناسب سمجھی، لگا دی، جیسے وضو اور غسل کا فرق ہے۔ جنبی کے لیے غسل مشروع فرما دیا اور محدث (بے وضو) کے لیے وضو۔ اسی طرح محرم کے لیے زیادہ پابندیاں لگا دیں اور صرف قربانی کرنے والے کے لیے کم۔ یہ کون سی قابل اعتراض بات ہے؟
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4368]
عثمان بن حكيم الأوسي ← سعيد بن المسيب القرشي