سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب : المسنة والجذعة
باب: مسنہ اور جذعہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4387
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ:" ضَحَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَذَعٍ مِنَ الضَّأْنِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جذعہ یعنی ایک سال کی بھیڑ کی قربانی کی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4387]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی میں بھیڑ کے جذعے ذبح کیے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4387]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9969) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اولاً تو اس کے راوی ”معاذ بن عبداللہ“ بذات خود صدوق ہونے کے باوجود روایت میں وہم کا شکار ہو جایا کرتے تھے، تو ممکن ہے کہ «جذعۃ من المعز» یا صرف «جذعۃ» ہو اور انہوں نے وہم سے «جذعۃ من الضان» کر دیا ہو، ثانیاً: ہو سکتا ہے کہ یہ مجبوری کی صورت میں ہو، بہرحال بعض علماء اس حدیث اور اگلی دونوں حدیثوں سے استدلال کرتے ہوئے بغیر مجبوری کے بھی ”ایک سالہ دنبہ“ کی قربانی کو جائز قرار دیتے ہیں اور «مسنہ» والی حدیث کو استحباب پر محمول کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 4387 in Urdu
معاذ بن عبد الله الجهني ← عقبة بن عامر الجهني