یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب : المسنة والجذعة
باب: مسنہ اور جذعہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4389
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْأَضْحَى بِيَوْمَيْنِ نُعْطِي الْجَذَعَتَيْنِ بِالثَّنِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْجَذَعَةَ تُجْزِئُ مَا تُجْزِئُ مِنْهُ الثَّنِيَّةُ".
کلیب ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: ہم عید الاضحی سے دو دن پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم دو جذعے دے کر «ثنیہ» یعنی مسنہ لے رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جذعہ بھی اس کام کے لیے کافی ہے جس کے لیے «ثنیہ» یعنی مسنہ کافی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4389]
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم عید الاضحیٰ سے دو دن قبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم دو دانتے کے عوض دو دو جذعے دیتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دانتے کی جگہ جذعہ بھی کفایت کر سکتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 4389 in Urdu
كليب بن شهاب الجرمي ← اسم مبهم