سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب : النهى عن المجثمة
باب: «مجثمہ» (جس جانور کو باندھ کر نشانہ لگا کر مارنے اور اس کو کھانے) کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4449
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسی چیز کو نشانہ نہ بناؤ جس میں روح اور جان ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4449]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جاندار چیز کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5059
| لا تتخذوا شيئا فيه الروح غرضا |
جامع الترمذي |
1475
| يتخذ شيء فيه الروح غرضا |
سنن ابن ماجه |
3187
| لا تتخذوا شيئا فيه الروح غرضا |
سنن النسائى الصغرى |
4448
| لا تتخذوا شيئا فيه الروح غرضا |
سنن النسائى الصغرى |
4449
| لا تتخذوا شيئا فيه الروح غرضا |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4449 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4449
اردو حاشہ:
جاندار چیز کو نشانہ بنانا ظلم ہے اور ظلم حرام ہے۔ انسان پر ہو یا حیوان پر۔ حتیٰ کہ بے جان چیزوں پر بھی۔ ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک فرض ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے، حدیث: 4331)
جاندار چیز کو نشانہ بنانا ظلم ہے اور ظلم حرام ہے۔ انسان پر ہو یا حیوان پر۔ حتیٰ کہ بے جان چیزوں پر بھی۔ ہر چیز کے ساتھ حسن سلوک فرض ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے، حدیث: 4331)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4449]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1475
بندھا ہوا جانور جسے تیر مار کر ہلاک کیا گیا ہو کا کھانا مکروہ ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جاندار کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1475]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جاندار کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1475]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(مؤلف اورابن ماجہ کی سند میں سماک وعکرمہ کی وجہ سے کلام ہے،
دیگرکی سند یں صحیح ہیں)
نوٹ:
(مؤلف اورابن ماجہ کی سند میں سماک وعکرمہ کی وجہ سے کلام ہے،
دیگرکی سند یں صحیح ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1475]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4449 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي