سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : كيف فرضت الصلاة
باب: نماز کیسے فرض ہوئی؟
حدیث نمبر: 454
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" أَوَّلَ مَا فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَأُتِمَّتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابتداء میں دو رکعت نماز فرض کی گئی، پھر سفر کی نماز (دو ہی) باقی رکھی گئی اور حضر کی نماز (بڑھا کر) پوری کر دی گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 454]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ ”شروع شروع میں نماز دو رکعت فرض ہوئی تھی، پھر سفر کی نماز اسی طرح رہنے دی گئی اور حضر (اقامت) کی نماز (چار رکعت) مکمل کر دی گئی۔“ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 454]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 1 (350)، وتقصیر الصلاة 5 (1090)، ومناقب الأنصار 8 (3935)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین1 (685)، (تحفة الأشراف: 16439)، سنن الدارمی/ الصلاة 179 (1550)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 270 (1198) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب إسحاق بن راهويه المروزي ← سفيان بن عيينة الهلالي | ثقة حافظ إمام |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 454 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 454
454 ۔ اردو حاشیہ:
➊ اس حدیث میں نماز سے مراد مغرب اور فجر کے علاوہ ہیں کیونکہ یہ نمازیں سفروحضر میں تبدیل نہیں ہوتیں۔ مغرب ہرحال میں تین رکعت اور فجر ہر حال میں دورکعت ہے۔
➋اس حدیث کا ظاہر مراد نہیں کیونکہ قرآن مجید کی آیت ﴿فلیس علیکم جناح ان تقصرو من الصلوۃ﴾ [النساء4: 101]
سے معلوم ہوتا ہے کہ قصر والی نمازیں چاررکعت تھیں۔ مسافر کو رخصت دی گئی کہ دو پڑھ لے، الایہ کہ حدیث کا مطلب یہ ہو کہ معراج سے پہلے نماز دورکعت تھی۔ جب معراج کے موقع پر پانچ نمازیں فرض ہوئیں تو بعض کو چار رکعت کر دیا گیا، پھر سفر کی نماز دو رکعت کر دی گئی تو گویا وہ معراج سے پہلے والی حالت میں رہ گئی اور گھر کی نماز مکمل رہنے دی گئی۔
➌اس حدیث سے احناف نے استدلال کیا ہے کہ سفر کی نماز دورکعت ہی ہے۔ چار پڑھ ہی نہیں سکتا جس طرح ظہر کی چھ نہیں پڑھ سکتا، مگر یہ مطلب مذکورہ قرآنی آیت کے علاوہ خود راویٔ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسلک کے بھی خلاف ہے کیونکہ وہ سفر میں چار بھی پڑھتی تھیں اور احناف کے نزدیک راوی کی رائے کو ترجیح دی جاتی ہے نہ کہ روایت کے ظاہر الفاظ کو۔
➊ اس حدیث میں نماز سے مراد مغرب اور فجر کے علاوہ ہیں کیونکہ یہ نمازیں سفروحضر میں تبدیل نہیں ہوتیں۔ مغرب ہرحال میں تین رکعت اور فجر ہر حال میں دورکعت ہے۔
➋اس حدیث کا ظاہر مراد نہیں کیونکہ قرآن مجید کی آیت ﴿فلیس علیکم جناح ان تقصرو من الصلوۃ﴾ [النساء4: 101]
سے معلوم ہوتا ہے کہ قصر والی نمازیں چاررکعت تھیں۔ مسافر کو رخصت دی گئی کہ دو پڑھ لے، الایہ کہ حدیث کا مطلب یہ ہو کہ معراج سے پہلے نماز دورکعت تھی۔ جب معراج کے موقع پر پانچ نمازیں فرض ہوئیں تو بعض کو چار رکعت کر دیا گیا، پھر سفر کی نماز دو رکعت کر دی گئی تو گویا وہ معراج سے پہلے والی حالت میں رہ گئی اور گھر کی نماز مکمل رہنے دی گئی۔
➌اس حدیث سے احناف نے استدلال کیا ہے کہ سفر کی نماز دورکعت ہی ہے۔ چار پڑھ ہی نہیں سکتا جس طرح ظہر کی چھ نہیں پڑھ سکتا، مگر یہ مطلب مذکورہ قرآنی آیت کے علاوہ خود راویٔ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسلک کے بھی خلاف ہے کیونکہ وہ سفر میں چار بھی پڑھتی تھیں اور احناف کے نزدیک راوی کی رائے کو ترجیح دی جاتی ہے نہ کہ روایت کے ظاہر الفاظ کو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 454]
Sunan an-Nasa'i Hadith 454 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق