🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب : بيع الصبرة من التمر لا يعلم مكيلها بالكيل المسمى من التمر
باب: بے ناپی کھجور کے ڈھیر کو ناپی ہوئی کھجور سے بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4551
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لَا يُعْلَمُ مَكِيلُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے ناپی کھجور کے ڈھیر کو ناپی ہوئی کھجور سے بیچنے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 9 (1530)، (تحفة الأشراف: 2820) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: دونوں کھجوریں خشک ہوں جن کو برابر برابر کے حساب سے بیچ سکتے ہیں، مگر دونوں کی ناپ معلوم ہونی چاہیئے، کیونکہ ایسی چیزوں کی خرید و فروخت میں کم و بیش ہونا جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن الحسن المقسمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن الحسن المقسمي ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4551 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4551
اردو حاشہ:
(1) امام نسائی رحمہ اللہ نے جو باب قائم کیا ہے اس کا مقصد یہ مسئلہ بیان کرنا ہے کہ کھجوروں وغیرہ کا ایسا ڈھیر جس کی مقدار، یعنی اس کا وزن یا ماپ معلوم نہ ہو تو اسے معلوم مقدار والے ڈھیر کے عوض نہیں بیچا جا سکتا کیونکہ اس طرح ایک فریق کی حق تلفی ہو گی اور شرعاََ یہ حرام ہے، نیز معلوم ہوا کہ ایک ہی جنس کی دو چیزوں کی خرید و فروخت کمی بیشی کے ساتھ نہیں ہو سکتی بلکہ اس میں تساوی ہاتھوں ہاتھ لینے دینے کی شرط ضروری ہے۔
(2) اس حدیث مبارکہ کے مفہوم سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ اگر دونوں ڈھیروں کی جنس مختلف ہو تو نا معلوم ماپ یا وزن والی ڈھیری کا سودا، معلوم و معین ماپ یا وزن والی ڈھیری سے کر دیا جائے تو یہ درست بیع ہو گی۔ اشارۃ النص سے اس کی تائید ہو رہی ہے۔
(3) عرب لوگ اس دور میں کھجوروں کو تولنے کی بجائے ماپا کرتے تھے جبکہ آج کل لوگ وزن کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے عربی میں اصل لفظ کیل استعمال کیا گیا ہے جس کے معنیٰ ماپنے کے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4551]