🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. بَابُ : الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ
باب: پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 46
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قالت:" مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَسْتَطِيبُوا بِالْمَاءِ، فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کریں، کیونکہ میں ان سے یہ کہنے میں شرماتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 46]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عورتوں سے فرمایا: ”اپنے خاوندوں سے کہو کہ وہ پانی سے صفائی کیا کریں، مجھے ان سے یہ بات کہتے ہوئے شرم آتی ہے، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے صفائی کیا کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 46]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 15 (19)، (تحفة الأشراف: 17970)، مسند احمد 6/113، 114، 120، 130، 171، 236 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
1394

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥معاذة بنت عبد الله العدوية، أم الصهباء
Newمعاذة بنت عبد الله العدوية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← معاذة بنت عبد الله العدوية
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة ثبت
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
46
مرن أزواجكن أن يستطيبوا بالماء فإني أستحييهم منه أن رسول الله كان يفعله
جامع الترمذي
19
مرن أزواجكن أن يستطيبوا بالماء فإني أستحييهم فإن رسول الله كان يفعله
سنن نسائی کی حدیث نمبر 46 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 46
46۔ اردو حاشیہ: اس حدیث سے بھی یہی مسئلہ اخذ ہوتا ہے کہ پانی سے استنجا کرنا افضل ہے کیونکہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی عادت مبارکہ یہی تھی، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ صرف پانی سے استنجا کرنا مکروہ نہیں ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (فتح الباري: 329/1، تحت حدیث: 150)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 46]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 19
پانی سے استنجاء کرنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کیا کریں، میں ان سے (یہ بات کہتے) شرما رہی ہوں، کیونکہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 19]
اردو حاشہ:
1؎:
یہاں بار بار آپ احادیث میں یہ جملہ پڑھ رہے ہیں:
اسی پر اہل علم کا عمل ہے،
تو اہل علم سے مراد محدّثین فقہاء اور قرآن و سنت کا صحیح فہم رکھنے والے لوگ ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 19]

Sunan an-Nasa'i Hadith 46 in Urdu