🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. باب : التسهيل في ترك الإشهاد على البيع
باب: بیع میں گواہ نہ کرنے کی سہولت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4651
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عِمْرَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ , عَنْ الزُّبَيْدِيِّ , أَنَّ الزُّهْرِيَّ أَخْبَرَهُ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ وَاسْتَتْبَعَهُ لِيَقْبِضَ ثَمَنَ فَرَسِهِ , فَأَسْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ وَطَفِقَ الرِّجَالُ يَتَعَرَّضُونَ لِلْأَعْرَابِيِّ , فَيَسُومُونَهُ بِالْفَرَسِ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَهُ , حَتَّى زَادَ بَعْضُهُمْ فِي السَّوْمِ عَلَى مَا ابْتَاعَهُ بِهِ مِنْهُ , فَنَادَى الْأَعْرَابِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسَ وَإِلَّا بِعْتُهُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَهُ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ؟" , قَالَ: لَا , وَاللَّهِ مَا بِعْتُكَهُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ" , فَطَفِقَ النَّاسُ يَلُوذُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالْأَعْرَابِيِّ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ وَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ: هَلُمَّ شَاهِدًا يَشْهَدُ أَنِّي قَدْ بِعْتُكَهُ , قَالَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بِعْتَهُ , قَالَ: فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ , فَقَالَ:" لِمَ تَشْهَدُ؟" , قَالَ: بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ.
صحابی رسول عمارہ بن خزیمہ کے چچا (خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی (دیہاتی) سے ایک گھوڑا خریدا، اور اس سے پیچھے پیچھے آنے کو کہا تاکہ وہ اپنے گھوڑے کی قیمت لے لے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور اعرابی سست رفتاری سے چلا، لوگ اعرابی سے پوچھنے لگے اور گھوڑا خریدنے کے لیے (بڑھ بڑھ کر قیمتیں لگانے لگے) انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے خرید چکے ہیں، یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اس سے زیادہ قیمت لگا دی جتنے پر آپ نے اس سے خریدا تھا، اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا، اگر آپ اس گھوڑے کو خریدیں تو ٹھیک ورنہ میں اسے بیچ دوں، آپ نے جب اس کی پکار سنی تو ٹھہر گئے اور فرمایا: کیا میں نے اسے تم سے خریدا نہیں ہے؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں نے اسے آپ سے بیچا نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اسے تم سے خرید چکا ہوں ۱؎، اب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اعرابی کے اردگرد اکٹھا ہونے لگے، دونوں تکرار کر رہے تھے، اعرابی کہنے لگا: گواہ لائیے جو گواہی دے کہ میں اسے آپ سے بیچ چکا ہوں، خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اسے بیچ چکے ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم گواہی کیسے دے رہے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ کے سچا ہونے پر یقین ہونے کی وجہ سے ۲؎، اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4651]
حضرت عمارہ بن خزیمہ کے چچا محترم سے روایت ہے، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا اور آپ اسے اپنے ساتھ لے گئے تاکہ وہ اپنے گھوڑے کی قیمت وصول کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذرا تیز چل رہے تھے جبکہ وہ اعرابی آہستہ آہستہ آ رہا تھا۔ لوگ اس اعرابی کو روک کر اس سے گھوڑے کا سودا کرنے لگے۔ ان کو یہ علم نہیں تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس گھوڑے کو خرید چکے ہیں، حتیٰ کہ کسی نے اس بھاؤ سے زیادہ بھاؤ لگا دیا جس پر آپ کا سودا طے ہوا تھا۔ اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے پکار کر کہا: اگر آپ نے یہ گھوڑا خریدنا ہے تو خرید لیں ورنہ میں بیچنے لگا ہوں۔ آپ نے اس کی آواز سنی تو رک گئے اور فرمایا: میں تجھ سے خرید نہیں چکا؟ اس نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! میں نے تو آپ کو یہ نہیں بیچا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو اسے تجھ سے خرید چکا ہوں۔ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اعرابی کے ارد گرد جمع ہونے لگے۔ وہ دونوں آپس میں تکرار کر رہے تھے۔ اعرابی کہنے لگا: کوئی گواہ پیش کریں جو گواہی دے کہ میں نے آپ کو یہ گھوڑا بیچا ہے۔ حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے یہ گھوڑا آپ کو بیچا ہے۔ (خیر! وہ معاملہ طے ہو گیا، بعد میں) آپ حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم کس طرح گواہی دیتے ہو؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی تصدیق کی بنا پر۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی دو آدمیوں کے برابر قرار دے دی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأقضیة 20 (3607)، (تحفة الأشراف: 15646)، مسند احمد (5/215) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگر اس خرید و فروخت میں گواہوں کا انتظام کیا گیا ہوتا تو وہ دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گواہ طلب ہی نہیں کرتا، اس نے سوچا کہ گواہ نہ ہونے کا فائدہ اٹھا کر زیادہ قیمت پر بیچ دوں گا، پتہ چلا کہ خرید و فروخت میں گواہی کا ضروری نہیں، ورنہ آپ ضرور اس کا انتظام کرتے۔ ۲؎: چونکہ آپ سچے ہیں اس لیے آپ کا یہ دعویٰ ہی میرے لیے کافی ہے کہ آپ خرید چکے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمارة بن ثابتصحابي
👤←👥عمارة بن خزيمة الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله
Newعمارة بن خزيمة الأنصاري ← عمارة بن ثابت
ثقة
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عمارة بن خزيمة الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥محمد بن الوليد الزبيدي، أبو الهذيل
Newمحمد بن الوليد الزبيدي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن حمزة الحضرمي، أبو عبد الرحمن
Newيحيى بن حمزة الحضرمي ← محمد بن الوليد الزبيدي
ثقة رمي بالقدر
👤←👥محمد بن بكار العاملي، أبو عبد الله
Newمحمد بن بكار العاملي ← يحيى بن حمزة الحضرمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الهيثم بن مروان العنسي، أبو الحكم
Newالهيثم بن مروان العنسي ← محمد بن بكار العاملي
صدوق حسن الحديث
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4651 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4651
اردو حاشہ:
(1) امام صاحب رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ سودے پر یا سودا کرتے وقت گواہ بھی بنائے جائیں تو اس کی گنجائش ہے۔ اس استدلال پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ﴾  اور جب تم باہم خرید وفروخت کرو تو گواہ بنا لو۔ اس جگہ لفظ ﴿وَأَشْهِدُوا﴾  فرمایا گیا ہے اور یہ امر کا صیغہ ہے جبکہ امر وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ دریں صورت کس طرح یہ گنجائش نکلتی ہے کہ گواہ نہ بنائے جائیں اور سودا کر لیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب قرینہ صارفہ (امر وجوب سے استحباب وغیرہ کی طرف پھیرنے والی دلیل) آ جائے تو پھر وجوب ختم ہو جاتا ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں اعرابی اور اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ گواہ بنانا مستحب ہے، ضروری نہیں، تاہم ادھار سودا ہو یا قرض ہو یا سودے وغیرہ میں نسیان و تنازع کا خدشہ ہو تو گواہ بنانا، تحریر تیار کرنا مؤکد چیز ہے۔
(2) سیدنا خزیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فضیلت و منقبت ثابت ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گواہی کو دو مسلمان مردوں کو گواہی کے برابر قرار دیا۔ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(3) یہ حدیث مبارکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسرنفسی اور انتہائی تواضع پر واضح دلیل ہے کہ آپ اپنے دنیوی کام کاج بذات خود سر انجام دیتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تواضع میں امت کے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اپنے کام خود کرنا ہی عظمت اور بڑائی ہے نہ کہ دوسروں سے کرانا اور ان پر انحصار کرنا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4651]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4651 in Urdu