سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. باب : مبايعة أهل الكتاب
باب: اہل کتاب(یہود و نصاریٰ) سے خرید و فروخت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4655
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ هِشَامٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ لِأَهْلِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس گھر والوں کی خاطر تیس صاع جَو کے بدلے رہن (گروی) رکھی ہوئی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البیوع 7 (1214)، (تحفة الأشراف: 6228)، مسند احمد (1/236، 300، 361)، سنن الدارمی/البیوع 44 (2624) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4655 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4655
اردو حاشہ:
اس حدیث کی تفصیلی بحث پیچھے گزر چکی ہے۔ دیکھیے: (حدیث: 4614) امام صاحب کا مقصود یہ ہے کہ غیر مسلم لوگوں سے تجارتی روابط رکھے جا سکتے ہیں۔ ان سے لین دین اور سودے کیے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ باب میں صرف اہل کتاب کا ذکر ہے مگر مراد سب مسلم وغیر مسلم ہیں۔ اہل کتاب، یہودیوں اور عیسائیوں کو کہا جاتا ہے کیونکہ ان پر آسمانی کتابیں تورات اور انجیل اتاری گئی تھیں۔
اس حدیث کی تفصیلی بحث پیچھے گزر چکی ہے۔ دیکھیے: (حدیث: 4614) امام صاحب کا مقصود یہ ہے کہ غیر مسلم لوگوں سے تجارتی روابط رکھے جا سکتے ہیں۔ ان سے لین دین اور سودے کیے جا سکتے ہیں۔ اگرچہ باب میں صرف اہل کتاب کا ذکر ہے مگر مراد سب مسلم وغیر مسلم ہیں۔ اہل کتاب، یہودیوں اور عیسائیوں کو کہا جاتا ہے کیونکہ ان پر آسمانی کتابیں تورات اور انجیل اتاری گئی تھیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4655]
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي