Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
88. باب : بيع الماء
باب: پانی بیچنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4664
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ , عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ , عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2399)، مسند احمد (3/356)، سنن الدارمی/البیوع 69 (2654)، وانظر أیضا حدیث رقم: 4647 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مراد نہر اور چشمے وغیرہ کا پانی جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو، اور اگر پانی پر کسی کا کسی طرح کا خرچ آیا ہو تو ایسے پانی کا بیچنا منع نہیں ہے، جیسے راستوں میں ٹھنڈا پانی، مینرل واٹر وغیرہ بیچنا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥الحسين بن واقد المروزي، أبو علي، أبو عبد الله
Newالحسين بن واقد المروزي ← أيوب السختياني
صدوق حسن الحديث
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله
Newالفضل بن موسى السيناني ← الحسين بن واقد المروزي
ثقة ثبت ربما أغرب
👤←👥الحسين بن حريث الخزاعي، أبو عمار
Newالحسين بن حريث الخزاعي ← الفضل بن موسى السيناني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
4004
عن بيع فضل الماء
سنن ابن ماجه
2477
عن بيع فضل الماء
سنن النسائى الصغرى
4664
نهى عن بيع الماء
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4664 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4664
اردو حاشہ:
(1) پانی، انسانوں اور جانوروں کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر بقا ممکن نہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے وافر پانی مفت مہیا فرمایا ہے۔ اگر پانی اپنی پیاس سے زائد ہو تو پیاسے کو مفت دینا فرض ہے اور اگر اپنے وضو اور غسل وغیرہ کی ضروریات سے زائد ہو تو غسل اور وضو وغیرہ کے لیے مفت دینا ضروری ہے۔ ہاں، کارو باری مقاصد کے لیے پانی مطلوب ہے تو بیچا جا سکتا ہے، مثلاً: زرعی ضروریات یا برف وغیرہ بنانے کے لیے۔ اسی طرح اگر پانی کے حصول میں اخراجات کرنے پڑتے ہوں یا محنت کرنا پڑتی ہو، مثلاً: دور سے اٹھا کر یا لاد کر لایا گیا ہو وغیرہ تو بھی اپنے اخراجات اور محنت کے مطابق معاوضہ وصول کیا جا سکتا ہے۔ یہ پانی کی قیمت نہیں ہوتی بلکہ اخراجات اور محنت کا معاوضہ ہوتا ہے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں، البتہ کسی پیاسے انسان یا حیوان کو پانی پینے سے نہیں روکا جا سکتا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4664]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2477
پانی بیچنے کی ممانعت۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2477]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دریاوں اورندی نالوں سےآنے والا پانی انسان کو بلاقیمت حاصل ہوتا ہے جس سے کاشت کاری کی جاتی ہے لہٰذا اس پر سب لوگوں کا حق ہے۔

(2)
پانی کے راستے میں جس کی زمین پہلے آتی ہو اسے حق ہے کہ پہلے اپنی فصل کو پانی دے۔
مناسب حد تک پانی دے کر دوسرے آدمی کی زمین کےلیے پانی چھوڑدینا چاہیے جیسے باب: 20 میں آ رہا ہے۔

(3)
جب پانی ایک جگہ سےدوسری جگہ لےجایا جائے تو وہاں جا کر مناسب قیمت پربیچا جا سکتا ہے جس طرح جنگل سے بلاقیمت لکڑی لا کر شہر میں بیچی جا سکتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2477]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4004
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت سے زائد پانی کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4004]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے بظاہر یہ ثابت ہوتا ہے کہ پانی فروخت کرنا جائز نہیں ہے،
جیسا کہ حافظ ابن حزم اور امام شوکانی کا رجحان معلوم ہوتا ہے،
لیکن جمہور امت کے نزدیک دوسری احادیث کی روشنی میں پانی پر ملکیت ثابت ہے،
اس لیے اس کی خریدوفروخت بھی جائزہے،
اور جس پانی کو فروخت کرنے سے منع کیا گیا ہے،
وہ،
وہ پانی ہے جو ان نہروں یا چشموں کا ہے،
جس پر کسی کی ملکیت نہیں ہے،
اگر کوئی وہاں سے اپنے برتن میں بھر لایا ہے،
تو وہ بیچ سکتا ہے،
امام شوکانی نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے،
جس میں ہے،
نهي عن بيع الماء،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی فروخت کرنے سے منع فرمایا،
اس میں فضل (لذائد)
کی قید نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4004]