سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب : الأمر بالعفو عن القصاص
باب: قصاص معاف کر دینے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4787
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَاصٍ فَأَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا ایک معاملہ آیا تو آپ نے اسے معاف کر دینے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4787]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 3 (4497)، سنن ابن ماجہ/البیوع 35 (2692)، (تحفة الأشراف: 1095)، مسند احمد (3/213، 252) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: سفارش کی تاکہ قصاص نہ لے کر دیت پر راضی ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥عطاء بن أبي ميمونة البصري، أبو معاذ عطاء بن أبي ميمونة البصري ← أنس بن مالك الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الله بن بكر المزني عبد الله بن بكر المزني ← عطاء بن أبي ميمونة البصري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← عبد الله بن بكر المزني | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب إسحاق بن راهويه المروزي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ إمام |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4787 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4787
اردو حاشہ:
حدیث میں لفظ ”امر“ ہے۔ عربی میں اس کے مختلف مفہوم ہیں۔ ان میں سے ایک مشورہ بھی ہے۔ قصاص اولیائے مقتول کا شرعی حق ہے، لہٰذا انھیں قصاص چھوڑنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا، اگرچہ معاف کرنا ہی افضل ہے۔ البتہ مشورہ دیا جا سکتا ہے، اس لیے یہاں اس معنیٰ کو ترجیح دی گئی ہے۔
حدیث میں لفظ ”امر“ ہے۔ عربی میں اس کے مختلف مفہوم ہیں۔ ان میں سے ایک مشورہ بھی ہے۔ قصاص اولیائے مقتول کا شرعی حق ہے، لہٰذا انھیں قصاص چھوڑنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا، اگرچہ معاف کرنا ہی افضل ہے۔ البتہ مشورہ دیا جا سکتا ہے، اس لیے یہاں اس معنیٰ کو ترجیح دی گئی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4787]
عطاء بن أبي ميمونة البصري ← أنس بن مالك الأنصاري