🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب : عقل الأصابع
باب: انگلیوں کی دیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4847
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4847]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیوں میں (ہر انگلی کے) دس دس اونٹ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4847]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 20 (4556، 4557)، سنن ابن ماجہ/الدیات 18 (2654)، (تحفة الأشراف: 9030)، مسند احمد (4/397، 398)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4848، 4849) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥مسروق بن أوس التميمي
Newمسروق بن أوس التميمي ← عبد الله بن قيس الأشعري
مقبول
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← مسروق بن أوس التميمي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن المقدام العجلي، أبو الأشعث
Newأحمد بن المقدام العجلي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4847 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4847
اردو حاشہ:
(1) انگلیاں اگرچہ فائدے کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ جو حیثیت انگوٹھے کی ہے، وہ چھنگلی کی نہیں لیکن سب ایک دوسرے کو قوت دیتی ہیں۔ پھر بعض انگلیاں زینت کا سبب ہیں۔ بعض انگلیوں کے خصوصی فائدے ہیں۔ بعض مواقع پر چھنگلی ہی کام دیتی ہے، انگوٹھا وہاں کچھ نہیں کر سکتا۔ گویا ہر انگلی کے صحیح مفاد کا حقیقی تعین ہمارے لیے بہت مشکل ہے، اس لیے اللہ علیم وخیبر اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب انگلیوں کو برابر قرار دیا ہے۔ داہنا ہاتھ ہو یا بایاں، ہاتھ کی انگلیاں ہوں یا پاؤں کی اور چھنگلی ہو یا انگوٹھا۔ واللہ أعلم۔
(2) دس دس اونٹ اگر کسی آدمی کے دونوں ہاتھ یا دونوں پاؤں کاٹ دیے جائیں تو وہ میت کے برابر ہے۔ لوگوں کا محتاج بن جائے گا اور اس کی زندگی موت سے بدتر ہو جائے گی، اس لیے دونوں ہاتھوں یا دونوں پاؤں کی دیت سو سو اونٹ رکھی گئی ہے۔ ایک ہاتھ یا ایک پاؤں کی دیت پچاس اونٹ ہوگی، خواہ بایاں ہی ہو کیونکہ بائیں کے بغیر دائیں کی زینت بھی کالعدم ہو جاتی ہے۔ پھر ہاتھ پاؤں میں اصل انگلیاں ہیں۔ انگلیاں نہ ہوں تو ہاتھ پاؤں اپنے اصلی مقصد سے خالی ہو جاتے ہیں، لہٰذا انگلیوں کو پورے عضو کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ البتہ اگر پانچوں انگلیاں کاٹ دے، تب بھی دیت پچاس اونٹ، کلائی سے کاٹے تب بھی اور کہنی سے کاٹ دے تب بھی اور کندھے سے کاٹ دے، تب بھی یہی دیت ہوگی۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4847]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4847 in Urdu