🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. باب : ما جاء في كتاب القصاص من المجتبى مما ليس في السنن تأويل قول الله عز وجل { ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها }
باب: قصاص سے متعلق مجتبیٰ (سنن صغریٰ) کی بعض وہ احادیث جو ”سنن کبریٰ“ میں نہیں ہیں آیت کریمہ: ”جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے“ (النساء: ۹۳) کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4868
أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النَّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 , فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ:" نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ , وَمَا نَسَخَهَا شَيْءٌ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ اہل کوفہ میں اس آیت: «ومن يقتل مؤمنا متعمدا‏» کے بارے میں اختلاف ہو گیا، میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ آیت تو آخر میں اتری ہے، اور یہ کسی (بھی آیت) سے منسوخ نہیں ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4868]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: کوفے والوں کا اس آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا﴾ [سورة النساء: 93] جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے۔ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف کوچ کیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ آیت آخری نازل ہونے والی آیات میں شامل ہے۔ اس کو کسی اور آیت نے منسوخ نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4868]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4005 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥المغيرة بن النعمان النخعي
Newالمغيرة بن النعمان النخعي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← المغيرة بن النعمان النخعي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥أزهر بن جميل الهاشمي، أبو محمد
Newأزهر بن جميل الهاشمي ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4868 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4868
اردو حاشہ:
(1) اختلاف ہوگیا کہ قاتل عمد کی توبہ قبول ہو سکتی ہے یا نہیں۔
(2)کوچ کیا۔ کیونکہ وہ مکہ مکرمہ میں رہتے تھے۔
(3) منسوخ نہیں کیا۔ کیونکہ یہ آیت مدنی ہے اور توبہ والی آیت مکی ہے، نیز اس میں مشرکین کا ذکر ہے، مسلمانوں کا نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4868]

Sunan an-Nasa'i Hadith 4868 in Urdu