سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : ذكر اختلاف أبي بكر بن محمد وعبد الله بن أبي بكر عن عمرة في هذا الحديث
باب: اس حدیث میں عمرہ سے روایت کرنے میں ابوبکر بن محمد اور عبداللہ بن ابی بکر کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4951
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ , عَنْ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ، يَرْفَعُهُ، قَالَ:" لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ، وَثَمَنُهُ يَوْمَئِذٍ دِينَارٌ".
ایمن بن ام ایمن سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھ ڈھال کی قیمت میں کاٹا جائے“ اور اس وقت اس کی قیمت ایک دینار تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4951]
حضرت عطاء اور مجاہد رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ایمن بن ام ایمن رضی اللہ عنہما نے مرفوعاً (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان) بیان فرمایا کہ: ”چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہیں کاٹا جائے گا۔“ اور ڈھال کی قیمت ان دنوں ایک دینار تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4951]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4946 (منکر)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، لإرساله قال ابن حبان فى الثقات (4/ 47): ’’أيمن بن عبيد الحبشي.....ومن زعم أن له صحبة فقد وهم،حديثه فى القطع مرسل‘‘. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 359
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أيمن ابن أم أيمن الحبشي | ثقة | |
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج مجاهد بن جبر القرشي ← أيمن ابن أم أيمن الحبشي | ثقة إمام في التفسير والعلم | |
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد عطاء بن أبي رباح القرشي ← مجاهد بن جبر القرشي | ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن | |
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب منصور بن المعتمر السلمي ← عطاء بن أبي رباح القرشي | ثقة ثبت | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← منصور بن المعتمر السلمي | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن علي بن حجر السعدي ← شريك بن عبد الله القاضي | ثقة حافظ |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4951 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4951
اردو حاشہ:
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے راوی حضرت ایمن صحابی ہیں۔ اور حضرت اسامہ ؓ کے ماں کی طرف سے بھائی ہیں۔ لیکن یہ راوی کی غلطی ہے۔ درست بات یہ ہے کہ ایمن حبشی مکی ہیں جو تابعی تھے۔ کہا گیا ہے کہ انہیں حضرت زبیر یا ابن زبیر نے آزاد کیا تھا، اس لیے یہ روایت تابعی کی مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہو گی، نیز یہ صحیح روایات کے معارض ہونے کی وجہ سے بھی نا قابل حجت ہے، اس لیے محقق کتاب کا اسے صحیح کہنا درست نہیں۔ بالفرض اگر یہ ایمن واقعتا صحابی ایمن ہی مراد ہوں تو پھر بھی یہ روایت منقطع ہے کیونکہ حضرت عطاء اور مجاہد کی حضرت ایمن جو کہ صحابی ہیں سے ملاقات ہی نہیں۔ یہ دونوں بعد کے دور کے ہیں اور اس روایت (دینار یا دس درہم) کو بیان کرنے والے یہی دو بزرگ ہیں لہذا اگر ایمن تابعی ہیں تب بھی اور اگر صحابی ہیں تب بھی دونوں صورتوں میں سند منقطع ہے اور غیر معتبر، خصوصا جب کہ اس سے کم قیمت تین درہم یا چوتھائی دینار پر ہاتھ کاٹنا صحابہ کرام ؓ سے بلاشبہ ثابت ہے۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے راوی حضرت ایمن صحابی ہیں۔ اور حضرت اسامہ ؓ کے ماں کی طرف سے بھائی ہیں۔ لیکن یہ راوی کی غلطی ہے۔ درست بات یہ ہے کہ ایمن حبشی مکی ہیں جو تابعی تھے۔ کہا گیا ہے کہ انہیں حضرت زبیر یا ابن زبیر نے آزاد کیا تھا، اس لیے یہ روایت تابعی کی مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہو گی، نیز یہ صحیح روایات کے معارض ہونے کی وجہ سے بھی نا قابل حجت ہے، اس لیے محقق کتاب کا اسے صحیح کہنا درست نہیں۔ بالفرض اگر یہ ایمن واقعتا صحابی ایمن ہی مراد ہوں تو پھر بھی یہ روایت منقطع ہے کیونکہ حضرت عطاء اور مجاہد کی حضرت ایمن جو کہ صحابی ہیں سے ملاقات ہی نہیں۔ یہ دونوں بعد کے دور کے ہیں اور اس روایت (دینار یا دس درہم) کو بیان کرنے والے یہی دو بزرگ ہیں لہذا اگر ایمن تابعی ہیں تب بھی اور اگر صحابی ہیں تب بھی دونوں صورتوں میں سند منقطع ہے اور غیر معتبر، خصوصا جب کہ اس سے کم قیمت تین درہم یا چوتھائی دینار پر ہاتھ کاٹنا صحابہ کرام ؓ سے بلاشبہ ثابت ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4951]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4951 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← أيمن ابن أم أيمن الحبشي