سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب : تأويل قوله عز وجل { قالت الأعراب آمنا قل لم تؤمنوا ولكن قولوا أسلمنا }
باب: «اعراب» ”(دیہاتیوں) نے کہا ہم ایمان لائے اے رسول! آپ کہہ دیجئیے تم لوگ ایمان نہیں لائے لیکن تم یہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں“ کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4996
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ قَسْمًا , فَأَعْطَى نَاسًا وَمَنَعَ آخَرِينَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَمَنَعْتَ فُلَانًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، قَالَ:" لَا تَقُلْ , مُؤْمِنٌ وَقُلْ مُسْلِمٌ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا سورة الحجرات آية 14.
سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال تقسیم کیا تو کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ لوگوں کو نہیں دیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے۔ آپ نے فرمایا: ”مومن نہ کہو، مسلم کہو“۔ ابن شہاب زہری نے یہ آیت پڑھی: «قالت الأعراب آمنا» ۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4996]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال تقسیم فرمایا، کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ کو نہ دیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے فلاں فلاں کو دیا اور فلاں کو نہیں دیا، حالانکہ وہ بھی مومن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن نہ کہو، مسلمان کہو۔“ ابن شہاب (زہری) نے پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا﴾ [سورة الحجرات: 14] ”دیہاتی کہتے ہیں ہم ایمان لائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4996]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 4996 in Urdu
عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري