سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب : صفة المؤمن
باب: مومن کی صفات۔
حدیث نمبر: 4998
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ ہوں، اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان و مال کے بارے میں اطمینان رکھیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4998]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الإیمان12(2627)، (تحفة الأشراف: 12864)، مسند احمد (2/379) (حسن، صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: کامل مسلم وہ ہے جس کے شر و فساد سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، یہاں باب ہے ”مومن کی صفات“ اور حدیث میں ”مسلم“ کا لفظ ہے، مطلب یہ ہے کہ اسلام اگر حقیقی ہو گا تو وہ ایمان ہی کا مظہر ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥القعقاع بن حكيم الكناني القعقاع بن حكيم الكناني ← أبو صالح السمان | ثقة | |
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله محمد بن عجلان القرشي ← القعقاع بن حكيم الكناني | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← محمد بن عجلان القرشي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4998 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4998
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ مسلمانوں کے مختلف درجے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو درجہ کمال کو پہنچے ہوئے ہیں اور کچھ اس کمال تک نہیں پہنچ پائے بلکہ اس سے کسی قدر نیچے ہیں۔
(2) جانی اور مالی حقوق میں اصل حرمت ہے، یعنی انھیں بغیر کسی شرعی وجہ کے پامال نہیں کیا جاسکتا، تاہم جب جان ومال کے ذریعے سے شرعی تقاضے مجروح کیے جائیں یا انسان اس کا سبب بن رہا ہو تو پھر اس کی حرمت بھی جاتی رہتی ہے، مثلا:اگر کوئی شخص کسی کا ہاتھ کاٹ دے تو قصاص میں ہاتھ کاٹنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا یا پھر اسے پچاس اونٹ دیت لی جائے گی۔ اس کے بر عکس اگر کوئی شخص ایک ڈھال چرا لے یا تین درہم چرائے تو چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور وہ بھی دایا ں ہاتھ۔اب ایک ہاتھ کی قیمت توپچاس اونٹ لگی ہے جبکہ دوسرا صرف تین درہم میں کٹ گیا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ پہلا ہاتھ جس کی قیمت پچاس اونٹ لگی ہے وہ معصوم تھا جبکہ دوسرا گناہ گارتھا۔اس نے شرعی تقاضے مجروح کیے، اس کی حرمت خود بخود پامال ہو گئ۔ وعلیٰ ھذا القیاس
(3) یہاں مسلمان اور مومن سے کامل مسلمان اور کامل مومن مراد ہے ورنہ جس شخص میں یہ اوصاف نہ پائے جائیں، اسے بھی مسلمان اور مومن کہا جائے گا۔ دراصل آپ نے لفظی معانی کی طرف تو جہ دلائی ہے۔ اسلام سلامتی سے اور ایمان امن سے ہے، لہذا ہر مسلمان اور مومن کو سلامتی اور امن کا پیکر ہونا چاہیئے۔
(1) اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ مسلمانوں کے مختلف درجے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو درجہ کمال کو پہنچے ہوئے ہیں اور کچھ اس کمال تک نہیں پہنچ پائے بلکہ اس سے کسی قدر نیچے ہیں۔
(2) جانی اور مالی حقوق میں اصل حرمت ہے، یعنی انھیں بغیر کسی شرعی وجہ کے پامال نہیں کیا جاسکتا، تاہم جب جان ومال کے ذریعے سے شرعی تقاضے مجروح کیے جائیں یا انسان اس کا سبب بن رہا ہو تو پھر اس کی حرمت بھی جاتی رہتی ہے، مثلا:اگر کوئی شخص کسی کا ہاتھ کاٹ دے تو قصاص میں ہاتھ کاٹنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا یا پھر اسے پچاس اونٹ دیت لی جائے گی۔ اس کے بر عکس اگر کوئی شخص ایک ڈھال چرا لے یا تین درہم چرائے تو چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور وہ بھی دایا ں ہاتھ۔اب ایک ہاتھ کی قیمت توپچاس اونٹ لگی ہے جبکہ دوسرا صرف تین درہم میں کٹ گیا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ پہلا ہاتھ جس کی قیمت پچاس اونٹ لگی ہے وہ معصوم تھا جبکہ دوسرا گناہ گارتھا۔اس نے شرعی تقاضے مجروح کیے، اس کی حرمت خود بخود پامال ہو گئ۔ وعلیٰ ھذا القیاس
(3) یہاں مسلمان اور مومن سے کامل مسلمان اور کامل مومن مراد ہے ورنہ جس شخص میں یہ اوصاف نہ پائے جائیں، اسے بھی مسلمان اور مومن کہا جائے گا۔ دراصل آپ نے لفظی معانی کی طرف تو جہ دلائی ہے۔ اسلام سلامتی سے اور ایمان امن سے ہے، لہذا ہر مسلمان اور مومن کو سلامتی اور امن کا پیکر ہونا چاہیئے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4998]
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي