سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب : تأويل قوله عز وجل { قالت الأعراب آمنا قل لم تؤمنوا ولكن قولوا أسلمنا }
باب: «اعراب» ”(دیہاتیوں) نے کہا ہم ایمان لائے اے رسول! آپ کہہ دیجئیے تم لوگ ایمان نہیں لائے لیکن تم یہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں“ کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4997
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ:" أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ , وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ) میں اعلان کر دیں کہ جنت میں مومن کے سوا کوئی نہیں داخل ہو گا ۱؎، اور یہ کہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4997]
حضرت بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام تشریق میں یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ ”جنت میں صرف مومن ہی داخل ہو گا، نیز یہ دن کھانے پینے کے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4997]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصیام 35 (1720)، (تحفة الأشراف: 2019)، مسند احمد (3/415، 4/335)، سنن الدارمی/الصوم 48 (1807) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: جنت میں پہلی مرتبہ ہی داخل ہونے کا شرف کامل ایمان والوں کو ہی حاصل ہو گا۔ ۲؎: سال کے سارے ہی دن کھانے پینے کے دن ہوں یہاں مراد یہ ہے کہ خاص طور سے کھانے پینے کے دن ہیں، یعنی ایام تشریق، قربانی کے دن ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥بشر بن سحيم الغفاري | صحابي | |
👤←👥نافع بن جبير النوفلي، أبو محمد، أبو عبد الله نافع بن جبير النوفلي ← بشر بن سحيم الغفاري | ثقة فاضل | |
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد عمرو بن دينار الجمحي ← نافع بن جبير النوفلي | ثقة ثبت | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← عمرو بن دينار الجمحي | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1720
| لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة الأيام أيام أكل وشرب |
سنن النسائى الصغرى |
4997
| لا يدخل الجنة إلا مؤمن أيام أكل وشرب |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4997 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4997
اردو حاشہ:
(1) ”ایام تشریق“ ذوالحجہ کی 11،12، 13 تاریخ کو کہتے ہیں۔ گویا یہ اعلان حجۃ الوداع کے موقع پرکیا گیا۔
(2)”صرف مومن ہی،، جس کا ایمان زبان سے آگے گز کر دل تک پہنچ گیا۔ وہی جنت کامستحق ہے اور گناہ گار مومن کسی نہ کسی وقت جنت میں ضرور جائے گا، البتہ کافر جنت میں نہیں جاسکے گا۔
(3) ”کھانے پینے کے دن ہیں“ لہٰذا ان دنوں میں روزہ رکھا جائے۔
(1) ”ایام تشریق“ ذوالحجہ کی 11،12، 13 تاریخ کو کہتے ہیں۔ گویا یہ اعلان حجۃ الوداع کے موقع پرکیا گیا۔
(2)”صرف مومن ہی،، جس کا ایمان زبان سے آگے گز کر دل تک پہنچ گیا۔ وہی جنت کامستحق ہے اور گناہ گار مومن کسی نہ کسی وقت جنت میں ضرور جائے گا، البتہ کافر جنت میں نہیں جاسکے گا۔
(3) ”کھانے پینے کے دن ہیں“ لہٰذا ان دنوں میں روزہ رکھا جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4997]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1720
ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے۔
بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کا خطبہ دیا تو فرمایا: ”جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا، اور یہ (ایام تشریق) کھانے اور پینے کے دن ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1720]
بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کا خطبہ دیا تو فرمایا: ”جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا، اور یہ (ایام تشریق) کھانے اور پینے کے دن ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1720]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
➊ ایام تشریق عید الاضحیٰ کے بعد کے تین دنوں کو کہتے ہیں، یعنی ذو الحجہ کی گیارہ، بارہ، تیرہ تاریخ۔
➋ عید الاضحیٰ دس ذو الحجہ کی طرح یہ تین دن بھی قربانی کے دن ہیں، اس لیے تیرہ ذو الحجہ کو سورج کے غروب ہونے تک قربانی کرنا جائز ہے۔ تاہم سب سے زیادہ ثواب دس ذو الحجہ کو قربانی کرنے کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سو اونٹ قربان کیے اور ان سب کی قربانی دس ذو الحجہ کو دی۔
➌ ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے کیونکہ یہ عید کی خوشی کے منافی ہے۔
➍ جو شخص حج تمتع ادا کرے اور اسے قربانی کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ ایام تشریق میں روزے رکھ سکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلْعُمْرَةِ إِلَى ٱلْحَجِّ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْىِ ۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَـٰثَةِ أَيَّامٍ فِى ٱلْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ۗ﴾ [البقرہ: 196/2] تو جس نے حج کے احرام تک عمرے کا فائدہ اٹھایا وہ احرام کھول کر جو میسر ہو قربانی سے وہ کرے، پھر جو شخص قربانی نہ پائے تو وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات اس وقت جب تم گھر لوٹ آؤ، یہ پورے دس روزے ہیں۔
➎ ایام تشریق کو منیٰ کے ایام اس لیے کہا جاتا ہے کہ حاجی یہ دن منیٰ میں گزارتے ہیں۔
➏ قربانی کے متبادل دس روزوں میں سے جو تین روزے حج کے ایام میں رکھنے ضروری ہیں، وہ یوم عرفہ سے پہلے رکھنے چاہییں۔ اگر وہ دن گزر جائیں تو ایام تشریق میں رکھے۔ [صحیح البخاري، الصوم، باب صیام أیام تشریق، حدیث: 1997، 1998]
➐ جنت میں داخل ہونے کے لیے صرف زبان سے اسلام کا اظہار کرنا کافی نہیں بلکہ دل میں اللہ کے احکام کی اطاعت کا جذبہ اور عملی طور پر اس کا اظہار بھی ضروری ہے۔ ایمان میں عملی نقص جنت میں فوری داخلے سے رکاوٹ کا باعث ہے۔ جہنم میں سزا بھگتنے کے بعد یا اللہ کی خصوصی رحمت سے معافی حاصل ہو جانے کے بعد جنت میں داخلہ ممکن ہے، البتہ شرک اکبر کا مرتکب اور غیر مسلم جب تک اس شرک اور کفر سے توبہ کرکے نہ مرا ہو دائمی جہنمی ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ ایام تشریق عید الاضحیٰ کے بعد کے تین دنوں کو کہتے ہیں، یعنی ذو الحجہ کی گیارہ، بارہ، تیرہ تاریخ۔
➋ عید الاضحیٰ دس ذو الحجہ کی طرح یہ تین دن بھی قربانی کے دن ہیں، اس لیے تیرہ ذو الحجہ کو سورج کے غروب ہونے تک قربانی کرنا جائز ہے۔ تاہم سب سے زیادہ ثواب دس ذو الحجہ کو قربانی کرنے کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر سو اونٹ قربان کیے اور ان سب کی قربانی دس ذو الحجہ کو دی۔
➌ ایام تشریق میں روزہ رکھنا منع ہے کیونکہ یہ عید کی خوشی کے منافی ہے۔
➍ جو شخص حج تمتع ادا کرے اور اسے قربانی کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ ایام تشریق میں روزے رکھ سکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلْعُمْرَةِ إِلَى ٱلْحَجِّ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْىِ ۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَـٰثَةِ أَيَّامٍ فِى ٱلْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ۗ﴾ [البقرہ: 196/2] تو جس نے حج کے احرام تک عمرے کا فائدہ اٹھایا وہ احرام کھول کر جو میسر ہو قربانی سے وہ کرے، پھر جو شخص قربانی نہ پائے تو وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات اس وقت جب تم گھر لوٹ آؤ، یہ پورے دس روزے ہیں۔
➎ ایام تشریق کو منیٰ کے ایام اس لیے کہا جاتا ہے کہ حاجی یہ دن منیٰ میں گزارتے ہیں۔
➏ قربانی کے متبادل دس روزوں میں سے جو تین روزے حج کے ایام میں رکھنے ضروری ہیں، وہ یوم عرفہ سے پہلے رکھنے چاہییں۔ اگر وہ دن گزر جائیں تو ایام تشریق میں رکھے۔ [صحیح البخاري، الصوم، باب صیام أیام تشریق، حدیث: 1997، 1998]
➐ جنت میں داخل ہونے کے لیے صرف زبان سے اسلام کا اظہار کرنا کافی نہیں بلکہ دل میں اللہ کے احکام کی اطاعت کا جذبہ اور عملی طور پر اس کا اظہار بھی ضروری ہے۔ ایمان میں عملی نقص جنت میں فوری داخلے سے رکاوٹ کا باعث ہے۔ جہنم میں سزا بھگتنے کے بعد یا اللہ کی خصوصی رحمت سے معافی حاصل ہو جانے کے بعد جنت میں داخلہ ممکن ہے، البتہ شرک اکبر کا مرتکب اور غیر مسلم جب تک اس شرک اور کفر سے توبہ کرکے نہ مرا ہو دائمی جہنمی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1720]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4997 in Urdu
نافع بن جبير النوفلي ← بشر بن سحيم الغفاري