🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : الفطرة
باب: دین فطرت والی عادات و سنن کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5043
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَشْرَةٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ"، قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ: الْمَضْمَضَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس چیزیں فطرت ۲؎ (انبیاء کی سنت) ہیں (جو ہمیشہ سے چلی آ رہی ہیں): مونچھیں کتروانا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے پوروں اور جوڑوں کو دھونا، ڈاڑھی کا چھوڑنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، استنجاء کرنا۔ مصعب بن شبیہ کہتے ہیں: دسویں بات میں بھول گیا، شاید وہ کلی کرنا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطھارة 16 (261)، سنن ابی داود/الطھارة 29 (53)، سنن الترمذی/الأدب 14 (2757)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 8 (293)، (تحفة الأشراف: 16188، 18850)، مسند احمد (1376) (حسن) (اس کے راوی ’’مصعب‘‘ ضعیف ہیں لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے)»
وضاحت: ۱؎: عنوان کتاب: «کتاب الزینۃ من السنن» ہے، یعنی یہ احادیث سنن کبریٰ سے ماخوذ ہیں، جن کے نمبرات کا حوالہ ہم نے ہر حدیث کے آخر میں دے دیا ہے، اس کے بعد دوسرا عنوان: «کتاب الزینۃ من المجتبیٰ» ہے، یعنی اب یہاں سے منتخب ابواب ہوں گے جو ظاہر ہے کہ سنن کبریٰ سے ماخوذ ہوں گے یا مؤلف کے جدید اضافے ہوں گے، اس تنبیہ کی ضرورت اس واسطے ہوئی کہ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کے نسخے میں عنوان کتاب صحیح آیا ہے، اور مولانا نے اس پر حاشیہ لکھ کر یہ واضح کر دیا ہے کہ اس کتاب میں یہ ابواب سنن کبریٰ سے منقول ہیں، لیکن مولانا وحیدالزماں کے مترجم نسخے میں «کتاب الزینۃ: باب من السنن الفطرۃ» مطبوع ہے، اور حدیث کے ترجمہ میں آیا ہے: دس باتیں پیدائشی سنت ہیں (یعنی ہمیشہ سے چلی آتی ہیں، سب نبیوں نے اس کا حکم کیا) (۳/۴۵۵) اور اس کا ترجمہ کتاب آرائش کے بیان میں، پھر نیچے پیدائشی سنتیں لکھا ہے، اور مشہور حسن کے نسخے میں «کتاب الزینۃ من السنن الفطرۃ» مطبوع ہے، جب کہ «من السنن» کا تعلق «کتاب الزینۃ» سے ہے۔ ۲؎: اکثر علماء نے فطرت کی تفسیر سنت سے کی ہے، گویا یہ خصلتیں انبیاء کی سنت ہیں جن کی اقتداء کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے قول: «فبهداهم اقتده» (سورة الأنعام: 90) میں دیا ہے، بعض علماء اس کی تفسیر فطرت ہی سے کرتے ہیں، یعنی یہ سب کام انسانی فطرت کے ہیں جس پر انسان کی خلقت ہوئی ہے، بعض علماء دونوں باتوں کو ملا کر یوں تفسیر کرتے ہیں کہ یہ سب حقیقی انسانی فطرت کے کام ہیں اسی لیے ان کو انبیاء علیہم السلام نے اپنایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن الزبير الأسدي، أبو بكر، أبو خبيب
Newعبد الله بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
صحابي
👤←👥طلق بن حبيب العنزي
Newطلق بن حبيب العنزي ← عبد الله بن الزبير الأسدي
صدوق رمي بالإرجاء
👤←👥مصعب بن شيبة القرشي
Newمصعب بن شيبة القرشي ← طلق بن حبيب العنزي
مقبول
👤←👥زكريا بن أبي زائدة الوادعي، أبو يحيى
Newزكريا بن أبي زائدة الوادعي ← مصعب بن شيبة القرشي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← زكريا بن أبي زائدة الوادعي
ثقة حافظ إمام
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ إمام
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5043 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5043
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث سے اس طرف اشارہ ملتا ہے کہ امور فطرت صرف دس چیزیں نہیں بلکہ یہ دس تو کچھ امور فطرت ہیں۔ یہ اس لیے کہ حدیث کے الفاظ ہیں: عشرة من الفطرة، اور لفظ من تبعیض کے لیے ہے یعنی کچھ امور فطرت یہ ہیں نہ کہ سارے امور فطرت کا یہاں احاطہ ہے۔ بعض احادیث میں دس کے بجائے پانچ اشیاء کو امور فطرت کہاگیا ہے،وہاں بھی احاطہ اور حصر مقصود نہیں۔ واللہ أعلم۔
(2) ان دس چیزوں کے فطرت ہونے سے مراد یہ ہے کہ فطرت انسانیہ ان امور کا تقاضا کرتی ہے۔ فطرت کے معنی سنت بھی کیے گئے ہیں کیونکہ دین اسلام بھی تو فطرت انسانیہ کے عین مطابق ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام ان چیزوں پر عمل پیرا رہے۔ ان میں سے اکثر امور کی تفصیل کتاب الطہارۃ میں بیان ہوچکی ہے۔ (دیکھئے، حدیث:3تا15) 3۔ براحم، برجمة کی جمع ہے۔ اس سے مراد وہ تمام جگہیں ہیں جہاں میل کچیل جمع ہوتاہے اور توجہ نہ کی جائے تو پانی وہاں نہیں پہنچتا، مثلاً: انگلیوں کی گرہیں اور پور، جسم کے دیگر جوڑ اور ہتھیلی کی لکیریں وغیرہ۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5043]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5043 in Urdu