🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب : الفطرة
باب: دین فطرت والی عادات و سنن کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5045
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ عَشْرَةٌ مِنْ السُّنَّةِ السِّوَاكُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَالْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ وَتَوْفِيرُ اللِّحْيَةِ وَقَصُّ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَالْخِتَانُ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَغَسْلُ الدُّبُرِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ وَجَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ وَمُصْعَبٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ
طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ دس باتیں انبیاء کی سنت ہیں: مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ڈاڑھی بڑھانا، ناخن کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا اور پاخانے کے مقام کو دھونا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سلیمان تیمی اور جعفر بن ایاس (ابوالبشر) کی حدیث مصعب کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے اور مصعب منکر الحدیث ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5045]
حضرت طلق بن حبیب رحمہ اللہ نے فرمایا: دس چیزیں (انبیاء علیہم السلام کی) سنت ہیں: مسواک کرنا، مونچھیں کاٹنا، کلی کرنا، ناک کی صفائی کرنا، ڈاڑھی پوری رکھنا، ناخن تراشنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، ختنہ کروانا، زیر ناف (شرم گاہ) کے بال مونڈنا اور (قضائے حاجت کے بعد) پشت دھونا۔ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: سلیمان تیمی کی حدیث (جو اس حدیث سے پہلے بیان ہوئی ہے) اور جعفر بن ایاس کی مذکورہ (یہی) حدیث مصعب بن شیبہ کی حدیث (باب کی پہلی حدیث) سے زیادہ درست ہے۔ مصعب (ابن شیبہ) منکر الحدیث (ضعیف راوی) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: مصعب کی توثیق تجریح میں اختلاف ہے، امام مسلم، ابن معین اور عجلی نے ان کی توثیق کی ہے، اور اس حدیث کے اکثر مشمولات دیگر روایات سے ثابت ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

سنن نسائی کی حدیث نمبر 5045 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5045
اردو حاشہ:
(1) پشت دھونا، ڈھیلے استعمال کرنے سے بھی گزارا تو ہو جاتا ہے مگر پوری صفائی نہیں ہوتی۔ مکمل صفائی پانی ہی سے ممکن ہے، لہذا کم از کم تین ڈھیلوں سے استنجا فرض ہے۔ اور پانی کے ساتھ افضل ہے۔ حدیث نمبر5043 میں انتقاص الماء سے بھی یہی مراد ہے۔
(2) ان کا موں سے انسان کو زینت حاصل ہوتی ہے۔ صفائی مکمل ہوتی ہے۔ وہ مہذب دکھائی دیتا ہے، لہذا ان کو کتاب الزینة میں ذکر فرمایا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5045]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5045 in Urdu