یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : الذؤابة
باب: سر پر چوٹی رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5068
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الْأَغَرِّ بْنِ حُصَيْنٍ النَّهْشَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي زِيَادُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْنُ مِنِّي، فَدَنَا مِنْهُ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى ذُؤَابَتِهِ، ثُمَّ أَجْرَى يَدَهُ وَسَمَّتَ عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُ".
حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینے میں آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: ”میرے قریب آؤ“، وہ آپ کے قریب ہوئے تو آپ نے اپنا ہاتھ ان کی چوٹی پر رکھا اور اپنا ہاتھ پھرایا پھر اللہ کا نام لے کر انہیں دعا دی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5068]
زیاد بن حصین اپنے والد محترم (حصین بن اوس رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ پہنچے تو آپ نے ان سے فرمایا: ”آگے آجاؤ۔“ جب وہ آپ کے قریب آگئے تو آپ نے اپنا ہاتھ ان کے لمبے لمبے بالوں پر رکھا اور سارے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کو دعا دی اور خوب دعا دی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5068]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3415) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الحصين بن أوس النهشلي | صحابي | |
👤←👥زياد بن الحصين النهشلي زياد بن الحصين النهشلي ← الحصين بن أوس النهشلي | ثقة | |
👤←👥غسان بن الأغر النهشلي، أبو الأغر غسان بن الأغر النهشلي ← زياد بن الحصين النهشلي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الصلت بن محمد الخاركي، أبو همام الصلت بن محمد الخاركي ← غسان بن الأغر النهشلي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥إبراهيم بن المستمر الهذلي، أبو إسحاق إبراهيم بن المستمر الهذلي ← الصلت بن محمد الخاركي | صدوق حسن الحديث |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5068 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5068
اردو حاشہ:
”ذُؤَابهِ“ مینڈھی کو بھی کہتے ہیں، یعنی گندھے ہوئے بال۔ اور لٹکتے ہوئےبالوں کو بھی کہہ دیا جاتا ہے جنہیں زلفیں بھی کہا جاتا ہے۔ ویسے زلفیں ان بالوں کو کہا جاتا ہے جو چہرے پر لٹکتے ہوں۔ واللہ أعلم
”ذُؤَابهِ“ مینڈھی کو بھی کہتے ہیں، یعنی گندھے ہوئے بال۔ اور لٹکتے ہوئےبالوں کو بھی کہہ دیا جاتا ہے جنہیں زلفیں بھی کہا جاتا ہے۔ ویسے زلفیں ان بالوں کو کہا جاتا ہے جو چہرے پر لٹکتے ہوں۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5068]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5068 in Urdu
زياد بن الحصين النهشلي ← الحصين بن أوس النهشلي