🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب : النتف
باب: سفید بال اکھاڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5094
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، وَأَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شُفَيٍّ، وَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ شُفَيٌّ: إِنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي يُسَمَّى أَبَا عَامِرٍ، رَجُلٌ مِنْ الْمَعَافِرِ، نُصَلِّي بِإِيلِيَاءَ، وَكَانَ قَاصُّهُمْ رَجُلًا مِنْ الْأَزْدِ، يُقَالُ لَهُ: أَبُو رَيْحَانَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَالَ أَبُو الْحُصَيْنِ: فَسَبَقَنِي صَاحِبِي إِلَى الْمَسْجِدِ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ: هَلْ أَدْرَكْتَ قَصَصَ أَبِي رَيْحَانَةَ؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَشْرٍ: عَنْ الْوَشْرِ، وَالْوَشْمِ، وَالنَّتْفِ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَعَنْ مُكَامَعَةِ الْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ شِعَارٍ، وَأَنْ يَجْعَلَ الرَّجُلُ أَسْفَلَ ثِيَابِهِ حَرِيرًا مِثْلَ الْأَعَاجِمِ، أَوْ يَجْعَلَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ حَرِيرًا أَمْثَالَ الْأَعَاجِمِ، وَعَنِ النُّهْبَى، وَعَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ، وَلُبُوسِ الْخَوَاتِيمِ إِلَّا لِذِي سُلْطَانٍ".
ابوالحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر ۱؎ کا تھا دونوں ایلیاء (بیت المقدس) میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ صحابہ میں سے قبیلہ ازد کے ابوریحانہ نامی ایک شخص تھے، میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے، پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آ کر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: آپ نے ابوریحانہ کا کچھ وعظ سنا؟ میں نے کہا: نہیں، وہ بولے: میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے: دانت باریک کرنے سے، گودنا گودنے سے، (سفید) بال اکھیڑنے سے، دو مردوں کے ایک ساتھ ایک کپڑے میں سونے سے، دو عورتوں کے ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے سے، مرد کے اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑا لگانے سے، یا عجمیوں کی طرح اپنے مونڈھوں پر ریشم لگانے سے، دوسروں کے مال لوٹنے سے، درندوں کی کھال پر سوار ہونے سے، اور انگوٹھی پہننے سے سوائے بادشاہ (حاکم) کے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5094]
حضرت ابوالحصین ہثیم بن شفی نے کہا کہ میں اور میرا ایک ساتھی، جو (یمن کے علاقے) معافر سے تھا اور اس کا نام ابوعامر تھا، بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے ارادے سے چلے۔ وہاں ایک صحابی جن کا نام ابوریحانہ ازدی رضی اللہ عنہ تھا، وعظ فرما رہے تھے۔ میرا ساتھی مجھ سے پہلے مسجد میں چلا گیا (اور وعظ سننے لگا)۔ پھر میں بھی اس کے پاس پہنچ گیا اور اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگا: کیا تو نے حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کا وعظ سنا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ وہ کہنے لگا، میں نے ان کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس کاموں سے منع فرمایا ہے: دانتوں کو رگڑ کر باریک کرنا، جسم کو گدوانا (جسم کھود کر رنگ بھرنا)، بال اکھیڑنا، آدمی کا آدمی کے ساتھ ننگے جسم لیٹنا، عورت کا عورت کے ساتھ ننگے جسم لیٹنا، عجمیوں کی طرح مرد کا اپنے کپڑوں کے نیچے ریشم پہننا، عجمیوں کی طرح کندھوں پر ریشمی کپڑا ڈالنا، ڈاکا ڈالنا، چیتے کی کھال پر سوار ہونا اور انگوٹھی پہننا علاوہ حاکم کے (اور وہ انگوٹھی پہن سکتا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 11 (4049)، سنن ابن ماجہ/اللباس 46 (3655)، (تحفة الأشراف: 12039)، مسند احمد (4/134، 135)، سنن الدارمی/الإستئذان 20 (2690)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5113-5115 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ابو عامر معافری لین الحدیث ہیں، لیکن نمبر 5114 کی سند میں ان کا واسطہ نہیں ہے اس لیے اس سند سے یہ روایت صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: معافر یمن میں ایک جگہ کا نام ہے۔ ۲؎: اکثر سلف نے صرف زیب و زینت کی خاطر انگوٹھی پہننے سے منع کیا ہے، (کچھ علماء اس ممانعت کو مکروہ تنزیہی قرار دیتے ہیں) بادشاہ، یا بادشاہ کے نائبین جیسے عامل، گورنر، اسی طرح کسی بھی ادارے یا اس کے سربراہ کے لیے اپنی تحریر پر مہر لگانے کی خاطر انگوٹھی کے جواز کے سب قائل ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4049) ابن ماجه (3655) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥شمعون بن زيد الأزدي، أبو ريحانةصحابي
👤←👥عبد الله بن جابر المعافري، أبو عامر
Newعبد الله بن جابر المعافري ← شمعون بن زيد الأزدي
مقبول
👤←👥الهيثم بن شفي الرعيني، أبو الحصين
Newالهيثم بن شفي الرعيني ← عبد الله بن جابر المعافري
ثقة
👤←👥عياش بن عباس القتباني، أبو عبد الرحيم، أبو عبد الرحمن
Newعياش بن عباس القتباني ← الهيثم بن شفي الرعيني
ثقة
👤←👥المفضل بن فضالة القتباني، أبو معاوية
Newالمفضل بن فضالة القتباني ← عياش بن عباس القتباني
ثقة
👤←👥النضر بن عبد الجبار المرادي، أبو الأسود
Newالنضر بن عبد الجبار المرادي ← المفضل بن فضالة القتباني
ثقة
👤←👥عبد الله بن عبد الحكم المالكي، أبو محمد
Newعبد الله بن عبد الحكم المالكي ← النضر بن عبد الجبار المرادي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عبد الله المصري، أبو القاسم
Newعبد الرحمن بن عبد الله المصري ← عبد الله بن عبد الحكم المالكي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5094 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5094
اردو حاشہ:
یہ روایت ضعیف ہے، تاہم سفید بال یا چہرے سے بال اکھیڑنا دیگر صحیح احادیث کی روسے حرام ہے، البتہ چاندی کی انگوٹھی کا جواز ہے، اسی لیے بعض علماء نے اس روایت کو دیگر شواہدکی بنا پر صحیح لغیرہ کہا ہے۔ دیکھئے(الموسوعۃ الحدیثیۃ، مسند احمد:28؍442)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5094]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5094 in Urdu