🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب : الدهن
باب: خوشبو (دہن عود) اور تیل کے استعمال کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5117
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ سُئِلَ عَنْ شَيْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَانَ إِذَا ادَّهَنَ رَأْسَهُ لَمْ يُرَ مِنْهُ، وَإِذَا لَمْ يُدَّهَنْ رُئِيَ مِنْهُ".
سماک کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی سفیدی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: جب آپ اپنے سر میں خوشبو (دہن عود) یا تیل لگاتے تو ان بالوں کی سفیدی نظر نہ آتی اور جب نہ لگاتے تو نظر آتی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفضائل 29 (2344)، سنن الترمذی/الشمائل 5 (39)، (تحفة الأشراف: 2182)، مسند احمد (5/86، 88، 90، 95) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن سمرة العامري، أبو خالد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← جابر بن سمرة العامري
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← أبو داود الطيالسي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5117 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5117
اردو حاشہ:
معلوم ہوا کہ سر اور ڈاڑھی کے بالوں کو تیل لگانا مستحب ہے کیونکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سرمبارک اور ڈاڑھی مبارک کو تیل لگایا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھی مبارک گھنی تھی۔ مزید برآں یہ کہ آپ کے سرمبارک اور ڈاڑھی مبارک کے اگلے حصے میں چند سفید بال تھے جو تیل لگانے کی صورت میں سفید نظر نہ آتے تھے۔ دیکھئے: (صحیح مسلم، الفضائل، باب إثبات خاتم النبوة وصفته، ومحله من جسدہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث: 2344)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5117]