🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : التشديد في تأخير العصر
باب: عصر تاخیر سے پڑھنے کی وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 512
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مُقَاتِلِ بْنِ مُشَمْرِجِ بْنِ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ، قَالَ: أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ؟ قُلْنَا: لَا، إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ، قَالَ: فَصَلُّوا الْعَصْرَ، قَالَ: فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، جَلَسَ يَرْقُبُ صَلَاةَ الْعَصْرِ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا".
علاء کہتے ہیں کہ وہ جس وقت ظہر پڑھ کر پلٹے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بصرہ میں ان کے گھر گئے، اور ان کا گھر مسجد کے بغل میں تھا، تو جب ہم لوگ ان کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے عصر پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، ہم لوگ ابھی ظہر پڑھ کر پلٹے ہیں، تو انہوں نے کہا: تو عصر پڑھ لو، ہم لوگ کھڑے ہوئے اور ہم نے عصر پڑھی، جب ہم پڑھ چکے تو انس رضی اللہ عنہ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: یہ منافق کی نماز ہے کہ بیٹھا عصر کا انتظار کرتا رہے یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان ہو جائے، (غروب کے قریب ہو جائے) تو اٹھے اور چار ٹھونگیں مار لے، اور اس میں اللہ کا ذکر معمولی سا کرے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 512]
علاء بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے کہا کہ وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بصرہ میں ان کے گھر گئے جب کہ وہ (علاء) ظہر سے فارغ ہوئے تھے، اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد کے ساتھ ہی تھا۔ جب ہم آپ کے پاس گئے تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے کہا: نہیں، ہم تو ظہر کی نماز پڑھ کر آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر عصر کی نماز پڑھو۔ ہم اٹھے اور عصر کی نماز پڑھی۔ جب ہم فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یہ منافق کی نماز ہے۔ وہ بیٹھا عصر کی نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہو جاتا ہے تو وہ اٹھتا ہے، چار ٹھونگے (چونچیں) مارتا ہے اور اس دوران میں اللہ کا ذکر بھی نہیں کرتا مگر تھوڑا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 34 (622)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (413)، سنن الترمذی/الصلاة 6 (160)، موطا امام مالک/القرآن10(46)، (تحفة الأشراف: 1122)، مسند احمد 3/102، 103، 149، 185، 247 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، أبو شبل
Newالعلاء بن عبد الرحمن الحرقي ← أنس بن مالك الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥إسماعيل بن جعفر الأنصاري، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن جعفر الأنصاري ← العلاء بن عبد الرحمن الحرقي
ثقة
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← إسماعيل بن جعفر الأنصاري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
512
تلك صلاة المنافق جلس يرقب صلاة العصر حتى إذا كانت بين قرني الشيطان قام فنقر أربعا لا يذكر الله فيها إلا قليلا
صحيح مسلم
1412
تلك صلاة المنافق يجلس يرقب الشمس حتى إذا كانت بين قرني الشيطان قام فنقرها أربعا
جامع الترمذي
160
تلك صلاة المنافق يجلس يرقب الشمس حتى إذا كانت بين قرني الشيطان قام فنقر أربعا لا يذكر الله فيها إلا قليلا
سنن أبي داود
413
تلك صلاة المنافقين تلك صلاة المنافقين تلك صلاة المنافقين يجلس أحدهم حتى إذا اصفرت الشمس فكانت بين قرني شيطان قام فنقر أربعا لا يذكر الله فيها إلا قليلا
سنن نسائی کی حدیث نمبر 512 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 512
512 ۔ اردو حاشیہ:
➊سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان ہونے سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ غروب کے قریب ہوتا ہے، اس وقت سورج کے پجاری اس کی پوجا کرتے ہیں، یہ شیطانی کام ہے، اس لیے مندرجہ بالا لفظوں سے بیان فرمایا۔ بعض اہل علم نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے کہ طلوع، غروب اور استوا (سر پرہونے) کے قریب شیطان سورج کے پاس آکر کھڑا ہوتا ہے، اس طرح کہ سورج اس کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے، تاکہ سورج کے پجاری اس کی بھی پوجا کریں۔ شاید اسی بنا پر مسلمانوں کو ان اوقات میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا ہے۔ واللہ أعلم۔
چار ٹھونگے (چونچیں) مارتا ہے۔ چونکہ سورج تقریباً غروب ہو رہا ہوتا ہے، اس لیے وہ جلدی جلدی نماز پڑھتا ہے۔ دیکھنے میں ایسے لگتا ہے جیسے کوا ٹھونگے مار رہا ہے۔ ارکان کے اذکارواور اد بھی صحیح طرح نہیں پڑھتا کیونکہ رغبت نہیں ہوتی، لہٰذا کچھ پڑھا گیا، کچھ رہ گیا۔ چونکہ رکعتیں چار ہیں، لہٰذا چار ٹھونگے کہا گیا ہے۔ ان میں سجدے گو آٹھ ہیں مگر جلد جلد کرنے کی وجہ سے گویا دونوں مل کر ایک ٹھونگا مارنے کے برابر ہوئے۔
➌مومن کی نماز اطمینان، خشوع و خضوع اور اذکار مسنونہ سے مزین ہوتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 512]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 413
عصر کے وقت کا بیان۔
علاء بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم ظہر کے بعد انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ عصر پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے نماز کے جلدی ہونے کا ذکر کیا یا خود انہوں نے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ منافقوں کی نماز ہے، یہ منافقوں کی نماز ہے کہ آدمی بیٹھا رہے یہاں تک کہ جب سورج زرد ہو جائے اور وہ شیطان کی دونوں سینگوں کے بیچ ہو جائے یا اس کی دونوں سینگوں پر ہو جائے ۱؎ تو اٹھے اور چار ٹھونگیں لگا لے اور اس میں اللہ کا ذکر صرف تھوڑا سا کرے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 413]
413۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ حدیث گویا پہلی حدیث کی شرح ہے کہ اگر کسی سے عذر شرعی کی بنا پر تاخیر ہوئی ہو اور اس نے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے ایک رکعت پالی ہو تو اس نے گویا وقت میں نماز پالی اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لیے خاص رحمت ہے۔ اور اگر بغیر عذر کے تاخیر کرے تو یہ منافقت کی علامت ہے۔
سورج کا شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہونا کے مفہوم میں اختلاف ہے۔ علامہ نووی  رحمہ اللہ کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ یہ حقیقت ہے اور سورج کے طلوع و غروب کے وقت شیطان سورج کے سامنے آ جاتا ہے ایسے لگتا ہے گویا سورج اس کے سر کے درمیان سے نکل رہا ہے یا غروب ہو رہا ہے۔ اور سورج کے پجاری بھی ان اوقات میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں، تو یہ سمجھتا ہے کہ اسے ہی سجدہ کیا جا رہا ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دو سینگوں سے مراد مجازاً شیطان کا بلند ہونا اور شیطانی قوتوں کا غلبہ اور کفار طلوع و غروب کے اوقات میں سورج کو سجدہ کرتے ہیں . . . . . . انتھی «والله أعلم»
➌ استثنائی صورتوں کو قائدہ یا کلیہ بنانا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 413]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1412
حضرت عطاء بن عبد الرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بصرہ میں ان کے گھر نماز ظہر سے فارغ ہو کر گیا اور ان کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا، جب ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے پوچھا، کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟ تو ہم نے عرض کیا، ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ منافق والی نماز ہے کہ آدمی بیٹھا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1412]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
عصر کی نماز بلا کسی عذر اور مجبوری کے اتنی مؤخر کرنا کہ آفتاب غروب ہونے کے قریب پہنچ جائے اور اس آخری اور تنگ وقت میں مرغ کی ٹھونگوں کی طرح جلدی جلدی چار رکعتیں پڑھنا جن میں اللہ کے ذکر کی مقدار بھی بہت کم اور برائے نام ہو ایک منافقانی طرز عمل ہے مومن کو ہر نماز خاص کر عصر کی نماز اپنے صحیح وقت پر انتہائی طمانیت اور تعدیل کے ساتھ پڑھنی چاہیے جلدی جلدی رکوع اور سجدہ کرنے تو مرغ کی ٹھونگوں کی طرح اوپر نیچے ہونا ہے۔
(2)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں بنو امیہ کے بعض گورنر عصر کی نماز بہت تاخیر سے پڑھتے تھے اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے اس طرز عمل کو غلط اور خلاف سنت سمجھتے تھے اس لیے انھوں نے اپنے پاس آنے والوں کو نماز عصر پڑھ لینے کے لیے کہا اور بعد میں انہیں یہ حدیث سنائی اور وہ خود بھی عصر کی نماز گھر پر جلد پڑھ لیتے تھے جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1412]

Sunan an-Nasa'i Hadith 512 in Urdu