سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب : النهى للمرأة أن تشهد الصلاة إذا أصابت من البخور
باب: عورت خوشبو لگا کر نماز پڑھنے کے لیے مسجد نہ جائے۔
حدیث نمبر: 5132
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فَلَا تَمَسَّ طِيبًا".
عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم میں سے کوئی عورت عشاء پڑھنے کے لیے (مسجد) آئے تو خوشبو نہ لگائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5132]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجۂ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی عورت کا ارادہ عشاء کی نماز مسجد میں پڑھنے کا ہو تو وہ خوشبو نہ لگائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 30 (443)، (تحفة الأشراف: 15888)، مسند احمد (6/363) ویأتي وبأرقام: 5133- 5137، 5262-5264) (حسن، صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5132 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5132
اردو حاشہ:
معلوم ہوا کہ اگر گھر سے باہر نہ جانا ہو تو عورت اپنے خاوند کے لیے خوشبو لگا سکتی ہے۔
معلوم ہوا کہ اگر گھر سے باہر نہ جانا ہو تو عورت اپنے خاوند کے لیے خوشبو لگا سکتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5132]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5132 in Urdu
بسر بن سعيد الحضرمي ← زينب بنت عبد الله الثقفية