سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب : النهى للمرأة أن تشهد الصلاة إذا أصابت من البخور
باب: عورت خوشبو لگا کر نماز پڑھنے کے لیے مسجد نہ جائے۔
حدیث نمبر: 5137
أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: بَلَغَنِي، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاكُنَّ الصَّلَاةَ، فَلَا تَمَسَّ طِيبًا". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.
زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی عورت جب نماز کے لیے مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ روایت زہری کی روایت سے غیر محفوظ ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5137]
حضرت زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی عورت نماز پڑھنے (مسجد میں) آئے تو کسی بھی قسم کی خوشبو نہ لگائے۔“ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا کہ یہ مذکورہ حدیث، زہری کی حدیث (کے طور پر) غیر محفوظ (اور شاذ) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5132 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: بسر سے زہری کا راوی ہونا غیر محفوظ ہے، ان کی جگہ ”بکیر“ کا ہونا محفوظ ہے، بہرحال روایت محفوظ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5137 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5137
اردو حاشہ:
امام نسائی رحمہ اللہ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ روایت بسند عن الزہری عن بسر بن سعید عن زینب الثقفیۃ درست نہیں بلکہ صحیح روایت بایں سند ہے: عن بکیر عن بسر بن سعید عن زینب الثقفیۃ کیونکہ حفاظ محدثین رحہم اللہ نے یہ روایت اسی طرح (بکیر کی سند سے) بیان کی ہے۔ زہری کی سند سے بیان کرنے والا سعید ہے اور وہ ضعیف راوی ہے۔
امام نسائی رحمہ اللہ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ روایت بسند عن الزہری عن بسر بن سعید عن زینب الثقفیۃ درست نہیں بلکہ صحیح روایت بایں سند ہے: عن بکیر عن بسر بن سعید عن زینب الثقفیۃ کیونکہ حفاظ محدثین رحہم اللہ نے یہ روایت اسی طرح (بکیر کی سند سے) بیان کی ہے۔ زہری کی سند سے بیان کرنے والا سعید ہے اور وہ ضعیف راوی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5137]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5137 in Urdu
بسر بن سعيد الحضرمي ← زينب بنت عبد الله الثقفية