سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب : البخور
باب: عود کی دھونی کا بیان۔
حدیث نمبر: 5138
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ أَبُو طَاهِرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَجْمَرَ" اسْتَجْمَرَ بِالْأَلُوَّةِ غَيْرَ مُطَرَّاةٍ , وَبِكَافُورٍ يَطْرَحُهُ مَعَ الْأَلُوَّةِ"، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب دھونی لیتے تو کبھی خالص عود کی دھونی جس میں کچھ نہ ملا ہوتا لیتے اور کبھی کافور ملا کر دھونی لیتے، پھر کہتے کہ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دھونی لیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5138]
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب خوشبو لگاتے تو اگر کی لکڑی سلگاتے اور اس میں کوئی دوسری خوشبو نہ ڈالتے، البتہ کبھی اگر کے ساتھ کافور ڈال لیتے، پھر فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح خوشبو سلگایا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ألفاظ من الأدب 5 (2254)، (تحفة الأشراف: 7605) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5138 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5138
اردو حاشہ:
”بخور“ بخار سے ہے۔ چونکہ خوشبو دار لکڑی کو سلگانے سے بخارات اٹھتے ہیں جن سے خوشبو پھیلتی ہے، لہٰذا اس قسم کی خوشبو کو بخور کہہ دیتے ہیں ورنہ بخور کسی ایک چیز کا نام نہیں۔
”بخور“ بخار سے ہے۔ چونکہ خوشبو دار لکڑی کو سلگانے سے بخارات اٹھتے ہیں جن سے خوشبو پھیلتی ہے، لہٰذا اس قسم کی خوشبو کو بخور کہہ دیتے ہیں ورنہ بخور کسی ایک چیز کا نام نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5138]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5138 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي