🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. باب : الجلاجل
باب: گھونگھرو اور گھنٹے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5224
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بَابَيْهِ مَوْلَى آلِ نَوْفَلٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جُلْجُلٌ وَلَا جَرَسٌ وَلَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس میں گھنگھرو یا گھنٹہ ہو، اور نہ فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ چلتے ہیں جن کے ساتھ گھنٹی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18156) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥سليمان بن بابيه المكي
Newسليمان بن بابيه المكي ← أم سلمة زوج النبي
مقبول
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← سليمان بن بابيه المكي
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥يوسف بن سعيد المصيصي، أبو يعقوب
Newيوسف بن سعيد المصيصي ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5224 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5224
اردو حاشہ:
(1) گھنگرو جانوروں، پروندوں حتیٰ کہ بچوں کے گلے میں ڈالے جاتے ہیں۔ اسی طرح جانوروں، پرندوں اوربچوں کے پاؤں میں بھی باندھے جاتے ہیں جب کہ بڑے جانوروں کی گردنوں میں بھی گھنٹی ڈالی جاتی ہے۔ ویسے بھی سکولوں اورگرجوں میں گھنٹیوں بجائی جاتی ہین۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹی کو شیطانی آواز فرمایا لہٰذا کہیں ضرورت اور مجبوری ہو تو اس کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ بلاوجہ جائز نہیں ہے۔
(2) فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں ورنہ محافظ فرشتے اور کاتبین فرشتے تو ہر وقت ساتھ رہتے ہیں۔ گویا گھنٹی والی جگہ فرشتوں کی بجائے شیطان ہوتا ہے، اس لیے وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت نہیں ہوتی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5224]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5224 in Urdu