سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. باب : الأمر بالخضاب
باب: بالوں میں خضاب لگانے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 5244
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي قُحَافَةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَأَنَّهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوا , أَوِ اخْضِبُوا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (ابوبکر کے والد) ابوقحافہ رضی اللہ عنہما لائے گئے، ان کا سر اور داڑھی ثغامہ نامی گھاس کی طرح تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے بالوں کا رنگ بدلو“، یا (فرمایا) ”خضاب لگاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2885) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ثغامہ ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5244 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5244
اردو حاشہ:
ثغامة پہاڑ کی چوٹی پر اگنے والی گھاس جس کے پھل اور پھول بلکل سفید ہوتے ہیں نیز خشک ہونے پر اس کی سفیدی اور بڑھ جاتی ہے۔ تفصیل کےلیے دیکھیے، حدیث: 5079۔
ثغامة پہاڑ کی چوٹی پر اگنے والی گھاس جس کے پھل اور پھول بلکل سفید ہوتے ہیں نیز خشک ہونے پر اس کی سفیدی اور بڑھ جاتی ہے۔ تفصیل کےلیے دیکھیے، حدیث: 5079۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5244]
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري