سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب : آخر وقت المغرب
باب: مغرب کے اخیر وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 525
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قال: حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: دَخَلْتُ أَنَا وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، فَقُلْنَا لَهُ: أَخْبِرْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَاكَ زَمَنَ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ الْفَيْءُ قَدْرَ الشِّرَاكِ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ قَدْرَ الشِّرَاكِ وَظِلِّ الرَّجُلِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْغَدِ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ طُولَ الرَّجُلِ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ قَدْرَ مَا يَسِيرُ الرَّاكِبُ سَيْرَ الْعَنَقِ إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِ اللَّيْلِ شَكَّ زَيْدٌ، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ".
بشیر بن سلام کہتے ہیں کہ میں اور محمد بن علی دونوں جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور ان سے ہم نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بتائیے (یہ حجاج بن یوسف کا عہد تھا) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، اور «فىء» (زوال کے بعد کا سایہ) تسمے کے برابر ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی جس وقت «فىء» تسمے کے اور آدمی کے سایہ کے برابر ہو گیا، پھر آپ نے مغرب پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی جس وقت فجر طلوع ہو گئی، پھر دوسرے دن آپ نے ظہر پڑھائی جب سایہ آدمی کی لمبائی کے برابر ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی جب آدمی کا سایہ اس کے دوگنا ہو گیا، اور اس قدر دن تھا جس میں سوار متوسط رفتار میں ذوالحلیفہ تک جا سکتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھائی جس وقت سورج ڈوب گیا، پھر تہائی رات یا آدھی رات کو عشاء پڑھائی (یہ شک زید کو ہوا ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی تو آپ نے خوب اجالا کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2217) (صحیح) بما تقدم برقم: 505 وما یأتی بأرقام 527، 528 (اس کے راوی ’’حسین‘‘ لین الحدیث ہیں، لیکن متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الحسين بن بشير بن سلام الأنصاري مجهول الحال،ذكره ابن حبان وحده فى الثقات (6/ 206) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 324
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
565
| يصلي الظهر بالهاجرة العصر والشمس حية المغرب إذا وجبت العشاء إذا كثر الناس عجل وإذا قلوا أخر الصبح بغلس |
صحيح البخاري |
560
| يصلي الظهر بالهاجرة العصر والشمس نقية المغرب إذا وجبت العشاء أحيانا وأحيانا إذا رآهم اجتمعوا عجل وإذا رآهم أبطوا أخر الصبح يصليها بغلس |
صحيح مسلم |
1460
| يصلي الظهر بالهاجرة العصر والشمس نقية المغرب إذا وجبت العشاء أحيانا يؤخرها وأحيانا يعجل كان إذا رآهم قد اجتمعوا عجل وإذا رآهم قد أبطئوا أخر الصبح وكان يصليها بغلس |
سنن أبي داود |
397
| يصلي الظهر بالهاجرة العصر والشمس حية المغرب إذا غربت الشمس العشاء إذا كثر الناس عجل إذا قلوا أخر الصبح بغلس |
سنن النسائى الصغرى |
605
| أقام فصلى الظهر ثم أقام فصلى العصر ولم يصل بينهما شيئا |
سنن النسائى الصغرى |
514
| يعلمه مواقيت الصلاة فتقدم جبريل ورسول الله خلفه والناس خلف رسول الله فصلى الظهر حين زالت الشمس |
سنن النسائى الصغرى |
656
| أقام فصلى الظهر ثم أقام فصلى العصر ولم يصل بينهما شيئا |
سنن النسائى الصغرى |
528
| يصلي الظهر بالهاجرة العصر والشمس بيضاء نقية المغرب إذا وجبت الشمس العشاء أحيانا كان إذا رآهم قد اجتمعوا عجل وإذا رآهم قد أبطئوا أخر |
سنن النسائى الصغرى |
525
| صلى الظهر حين زالت الشمس كان الفيء قدر الشراك صلى العصر حين كان الفيء قدر الشراك وظل الرجل صلى المغرب حين غابت الشمس صلى العشاء حين غاب الشفق صلى الفجر حين طلع الفجر |
سنن النسائى الصغرى |
505
| صل معي فصلى الظهر حين زاغت الشمس العصر حين كان فيء كل شيء مثله المغرب حين غابت الشمس العشاء حين غاب الشفق قال ثم صلى الظهر حين كان فيء الإنسان مثله العصر حين كان فيء الإنسان مثليه المغرب حين كان قبيل غيبوبة الشفق |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 525 کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ایوب لاہوری حفظ اللہ، فوائد و مسال، سنن نسائی 525
سورج ڈھلنے کے بعد نماز
۱؎۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج ڈھلنے کے بعد نماز پڑھائی «وكان الفيئ قدر الشراك» ”(زوال) فی تسمے کے برابر تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی «حين كان الغيئ قدر الشراك وظل الرجل» ”جس وقت (زوال فی کا) سایہ تسمے اور آدمی کے سائے کے برابر تھا۔“
[صحيح: صحيح نسائي 510، كتاب الصلاة: باب آخر وقت المغرب، نسائي 525]
۲؎۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی امامت والی حدیث میں ہے کہ «فصلي بي الظهر فى اليوم الثاني حين صار ظل كل شيئ مثله» ”(نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ) حضرت جبرئیل علیہ السلام نے دوسرے روز مجھے نماز ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا۔“ [صحيح: صحيح ترمذي 127، صحيح أبو داود 416، المشكاة 583]
(جمہور) اس کے قائل ہیں۔
(ابوحنیفہؒ) ظہر کا آخری وقت وہ ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو جائے۔ (واضح رہے کہ امام ابوحنیفہؒ کی اس رائے کو خود علمائے احناف نے بھی قبول نہیں کیا اور نہ ہی کسی مرفوع حدیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔)
[المغنى: 370/1، الأم 153/1، حلية العلماء فى معرفة مذاهب الفقهاء 29/2، المهذب 51/1، فتح القدير 151/1، مغني المحتاج 121/1، اللباب 59/1، الدر المختار 331/1، القوانين الفقهية ص/43]
(راجح) جمہور کا موقف رائج ہے۔ گذشتہ صحیح حدیث اس کا ثبوت ہے۔
[تفصيل كے ليے ملاحظه هو: نيل الأوطار 438/1، الفقه الإسلامي وأدلته 66531، تحفة الأحوذي 489/1، السيل الحرار 183/1]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فقہ الحدیث از عمران ایوب لاہوری، جلد اول، ص 302
۱؎۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج ڈھلنے کے بعد نماز پڑھائی «وكان الفيئ قدر الشراك» ”(زوال) فی تسمے کے برابر تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی «حين كان الغيئ قدر الشراك وظل الرجل» ”جس وقت (زوال فی کا) سایہ تسمے اور آدمی کے سائے کے برابر تھا۔“
[صحيح: صحيح نسائي 510، كتاب الصلاة: باب آخر وقت المغرب، نسائي 525]
۲؎۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی امامت والی حدیث میں ہے کہ «فصلي بي الظهر فى اليوم الثاني حين صار ظل كل شيئ مثله» ”(نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ) حضرت جبرئیل علیہ السلام نے دوسرے روز مجھے نماز ظہر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا۔“ [صحيح: صحيح ترمذي 127، صحيح أبو داود 416، المشكاة 583]
(جمہور) اس کے قائل ہیں۔
(ابوحنیفہؒ) ظہر کا آخری وقت وہ ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو جائے۔ (واضح رہے کہ امام ابوحنیفہؒ کی اس رائے کو خود علمائے احناف نے بھی قبول نہیں کیا اور نہ ہی کسی مرفوع حدیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔)
[المغنى: 370/1، الأم 153/1، حلية العلماء فى معرفة مذاهب الفقهاء 29/2، المهذب 51/1، فتح القدير 151/1، مغني المحتاج 121/1، اللباب 59/1، الدر المختار 331/1، القوانين الفقهية ص/43]
(راجح) جمہور کا موقف رائج ہے۔ گذشتہ صحیح حدیث اس کا ثبوت ہے۔
[تفصيل كے ليے ملاحظه هو: نيل الأوطار 438/1، الفقه الإسلامي وأدلته 66531، تحفة الأحوذي 489/1، السيل الحرار 183/1]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فقہ الحدیث از عمران ایوب لاہوری، جلد اول، ص 302
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 302]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 565
نماز عشاء کا وقت جب لوگ (جلدی) جمع ہو جائیں یا جمع ہونے میں دیر کر دیں
«. . . نْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ . . .»
”. . . سعد بن ابراہیم سے بیان کیا، وہ محمد بن عمرو سے جو حسن بن علی بن ابی طالب کے بیٹے ہیں، فرمایا کہ ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ آپ نماز ظہر دوپہر میں پڑھتے تھے۔ اور جب نماز عصر پڑھتے تو سورج صاف روشن ہوتا۔ مغرب کی نماز واجب ہوتے ہی ادا فرماتے، اور ” عشاء “ میں اگر لوگ جلدی جمع ہو جاتے تو جلدی پڑھ لیتے اور اگر آنے والوں کی تعداد کم ہوتی تو دیر کرتے۔ اور صبح کی نماز منہ اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ إِذَا اجْتَمَعَ النَّاسُ أَوْ تَأَخَّرُوا:: 565]
«. . . نْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءَ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ . . .»
”. . . سعد بن ابراہیم سے بیان کیا، وہ محمد بن عمرو سے جو حسن بن علی بن ابی طالب کے بیٹے ہیں، فرمایا کہ ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ آپ نماز ظہر دوپہر میں پڑھتے تھے۔ اور جب نماز عصر پڑھتے تو سورج صاف روشن ہوتا۔ مغرب کی نماز واجب ہوتے ہی ادا فرماتے، اور ” عشاء “ میں اگر لوگ جلدی جمع ہو جاتے تو جلدی پڑھ لیتے اور اگر آنے والوں کی تعداد کم ہوتی تو دیر کرتے۔ اور صبح کی نماز منہ اندھیرے میں پڑھا کرتے تھے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ إِذَا اجْتَمَعَ النَّاسُ أَوْ تَأَخَّرُوا:: 565]
� تشریح:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ترجمہ باب اور ان میں آمدہ احادیث سے ان لوگوں کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ عشاء کی نماز اگر جلدی ادا کی جائے تو اسے عشاء ہی کہیں گے اور اگر دیر سے ادا کی جائے تو اسے «عتمه» کہیں گے، گویا ان لوگوں نے دونوں روایتوں میں تطبیق دی ہے۔ اور ان پر رد اس طرح ہوا کہ ان احادیث میں دونوں حالتوں میں اسے عشاء ہی کہا گیا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ترجمہ باب اور ان میں آمدہ احادیث سے ان لوگوں کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ عشاء کی نماز اگر جلدی ادا کی جائے تو اسے عشاء ہی کہیں گے اور اگر دیر سے ادا کی جائے تو اسے «عتمه» کہیں گے، گویا ان لوگوں نے دونوں روایتوں میں تطبیق دی ہے۔ اور ان پر رد اس طرح ہوا کہ ان احادیث میں دونوں حالتوں میں اسے عشاء ہی کہا گیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 565]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 397
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوقات نماز کا بیان اور آپ نماز کیسے پڑھتے تھے؟
محمد بن عمرو سے روایت ہے (اور وہ حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے لڑکے ہیں) وہ کہتے ہیں کہ ہم نے جابر رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے اوقات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سورج ڈھل جانے پر پڑھتے تھے، عصر ایسے وقت پڑھتے کہ سورج زندہ رہتا، مغرب سورج ڈوب جانے پر پڑھتے، اور عشاء اس وقت جلدی ادا کرتے جب آدمی زیادہ ہوتے، اور جب کم ہوتے تو دیر سے پڑھتے، اور فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 397]
محمد بن عمرو سے روایت ہے (اور وہ حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے لڑکے ہیں) وہ کہتے ہیں کہ ہم نے جابر رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے اوقات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سورج ڈھل جانے پر پڑھتے تھے، عصر ایسے وقت پڑھتے کہ سورج زندہ رہتا، مغرب سورج ڈوب جانے پر پڑھتے، اور عشاء اس وقت جلدی ادا کرتے جب آدمی زیادہ ہوتے، اور جب کم ہوتے تو دیر سے پڑھتے، اور فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 397]
397۔ اردو حاشیہ:
اہل بیت نبوی ہم تمام مسلمانوں کے محبو ب و مکرم افراد ہیں، ان پر اللہ کی بےحد و بےشمار رحمتیں ہوں، ان کا خاندان کرہ ارضی پر بےمثل و بےمثال خاندان ہے، ان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ اسوہ رسول کے حامل اور مبلغ تھے جیسے کہ یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پڑپوتے جناب محمد بن عمرو رحمہ اللہ نے نقل کی ہے۔
اہل بیت نبوی ہم تمام مسلمانوں کے محبو ب و مکرم افراد ہیں، ان پر اللہ کی بےحد و بےشمار رحمتیں ہوں، ان کا خاندان کرہ ارضی پر بےمثل و بےمثال خاندان ہے، ان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ اسوہ رسول کے حامل اور مبلغ تھے جیسے کہ یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پڑپوتے جناب محمد بن عمرو رحمہ اللہ نے نقل کی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 397]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 505
عصر کے اول وقت کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”تم میرے ساتھ نماز پڑھو“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، پھر (دوسرے دن) ظہر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، اور مغرب شفق غائب ہونے سے کچھ پہلے پڑھائی۔ عبداللہ بن حارث کہتے ہیں: پھر انہوں نے عشاء کے سلسلہ میں کہا: میرا خیال ہے اس کا وقت تہائی رات تک ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 505]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”تم میرے ساتھ نماز پڑھو“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، پھر (دوسرے دن) ظہر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، اور مغرب شفق غائب ہونے سے کچھ پہلے پڑھائی۔ عبداللہ بن حارث کہتے ہیں: پھر انہوں نے عشاء کے سلسلہ میں کہا: میرا خیال ہے اس کا وقت تہائی رات تک ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 505]
505 ۔ اردو حاشیہ:
➊ اس حدیث میں فجر کے سوا باقی نمازوں کے اول اور آخر اوقات بیان کر دیے گئے ہیں، البتہ عشاء کا آخر وقت دوسری روایات کے مطابق نصف لیل ہے اور یہی صحیح ہے۔
➋عصر کے اول وقت کی تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے حدیث: 503۔
➌صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شوق اور اہتمام کا پتہ چلتا ہے کہ وہ احکام شرعیہ کو سیکھنے میں کس قدر سرگرم تھے۔
➍عالم دین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ناواقف لوگوں کو مسائل شرعیہ سے آگاہ کرے اور تفہیم کا ایسا انداز اختیار کرے کہ جس سے مسئلہ آسانی سے اور جلدی سمجھ میں آجائے اور عوام کے ذہنوں میں راسخ ہو جائے۔
➊ اس حدیث میں فجر کے سوا باقی نمازوں کے اول اور آخر اوقات بیان کر دیے گئے ہیں، البتہ عشاء کا آخر وقت دوسری روایات کے مطابق نصف لیل ہے اور یہی صحیح ہے۔
➋عصر کے اول وقت کی تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے حدیث: 503۔
➌صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شوق اور اہتمام کا پتہ چلتا ہے کہ وہ احکام شرعیہ کو سیکھنے میں کس قدر سرگرم تھے۔
➍عالم دین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ناواقف لوگوں کو مسائل شرعیہ سے آگاہ کرے اور تفہیم کا ایسا انداز اختیار کرے کہ جس سے مسئلہ آسانی سے اور جلدی سمجھ میں آجائے اور عوام کے ذہنوں میں راسخ ہو جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 505]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 514
عصر کے اخیر وقت کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات سکھا رہے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سایہ قد کے برابر ہو گیا، اور جس طرح انہوں نے پہلے کیا تھا ویسے ہی پھر کیا، جبرائیل آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے عصر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو جبرائیل آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب شفق غائب ہو گئی، تو وہ آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، تو انہوں نے عشاء پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر کی پو پھٹی، تو وہ آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، انہوں نے فجر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام دوسرے دن آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا، چنانچہ انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو ظہر پڑھائی، پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے عصر پڑھائی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر ہم سو گئے، پھر اٹھے، پھر سو گئے پھر اٹھے، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، اور اسی طرح کیا جس طرح کل انہوں نے کیا تھا، پھر عشاء پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر (کی روشنی) پھیل گئی، صبح ہو گئی، اور ستارے نمودار ہو گئے، اور انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے فجر پڑھائی، پھر کہا: ”ان دونوں نمازوں کے درمیان میں ہی نماز کے اوقات ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 514]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات سکھا رہے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سایہ قد کے برابر ہو گیا، اور جس طرح انہوں نے پہلے کیا تھا ویسے ہی پھر کیا، جبرائیل آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے عصر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو جبرائیل آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب شفق غائب ہو گئی، تو وہ آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، تو انہوں نے عشاء پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر کی پو پھٹی، تو وہ آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، انہوں نے فجر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام دوسرے دن آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا، چنانچہ انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو ظہر پڑھائی، پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے عصر پڑھائی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر ہم سو گئے، پھر اٹھے، پھر سو گئے پھر اٹھے، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، اور اسی طرح کیا جس طرح کل انہوں نے کیا تھا، پھر عشاء پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر (کی روشنی) پھیل گئی، صبح ہو گئی، اور ستارے نمودار ہو گئے، اور انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے فجر پڑھائی، پھر کہا: ”ان دونوں نمازوں کے درمیان میں ہی نماز کے اوقات ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 514]
514 ۔ اردو حاشیہ: یہ حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جابر بھی موقع پر موجود تھے جب کہ مشہور یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام کا تعلیم اوقات کے لیے آنا مکی زندگی کی بات ہے۔ ممکن ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کسی اور صحابی سے سنا ہو یا مدینہ منورہ میں بھی ایسا واقعہ ہوا ہو۔ حدیث نمبر503 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ وہاں بھی یہ دونوں احتمال ہیں مگر اغلب یہ ہے کہ یہ واقعہ مدینہ منورہ میں پیش آیا تھا کیونکہ باجماعت نماز مکہ میں نہیں مدینہ منورہ میں ہوتی تھی۔ مزید فوائد کے لیے دیکھیے حدیث: 503۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 514]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 528
عشاء جلدی پڑھنے کا بیان۔
محمد بن عمرو بن حسن کہتے ہیں کہ حجاج آئے تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر دوپہر میں (سورج ڈھلتے ہی) پڑھتے تھے، اور عصر اس وقت پڑھتے جب سورج سفید اور صاف ہوتا، اور مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا، اور عشاء جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے، اور جب دیکھتے کہ لوگ دیر کر رہے ہیں تو مؤخر کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 528]
محمد بن عمرو بن حسن کہتے ہیں کہ حجاج آئے تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر دوپہر میں (سورج ڈھلتے ہی) پڑھتے تھے، اور عصر اس وقت پڑھتے جب سورج سفید اور صاف ہوتا، اور مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا، اور عشاء جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے، اور جب دیکھتے کہ لوگ دیر کر رہے ہیں تو مؤخر کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 528]
528 ۔ اردو حاشیہ:
➊ «الْهَاجِرَة» ”نصف النہار“ سے مراد زوال کے فوراًً بعد ہے۔
➋عشاء کی نماز میں ثلث لیل (تہائی رات) تک تاخیر مستحب ہے مگر نمازیوں کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر لوگ کام کاج والے ہوں جنھیں جلدی نیند آجاتی ہے تو اول وقت میں پڑھ لی جائے تاکہ وہ نماز باجماعت سے محروم نہ ہوں۔ اگر فارغ قسم کے لوگ ہیں جو دیر سے سوتے ہیں تو ثلث لیل تک تاخیر کرلی جائے، مزید مجبوری ہو تو نصف رات تک تاخیر کر لیں۔ اس سے زیادہ تاخیر تو صرف اضطراری حالت ہی میں ہو سکتی ہے، مثلاً: کسی کو نیند آگئی اور وہ سویا رہ گیا اور نماز نہ پڑھی گئی تو وہ صبح تک پڑھ لے۔ گویا وقت مستحبات ثلث لیل تک، وقت جواز نصف لیل تک اور وقت اضطرار فجر طلوع ہونے تک ہے۔ واللہ اعلم۔
➊ «الْهَاجِرَة» ”نصف النہار“ سے مراد زوال کے فوراًً بعد ہے۔
➋عشاء کی نماز میں ثلث لیل (تہائی رات) تک تاخیر مستحب ہے مگر نمازیوں کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر لوگ کام کاج والے ہوں جنھیں جلدی نیند آجاتی ہے تو اول وقت میں پڑھ لی جائے تاکہ وہ نماز باجماعت سے محروم نہ ہوں۔ اگر فارغ قسم کے لوگ ہیں جو دیر سے سوتے ہیں تو ثلث لیل تک تاخیر کرلی جائے، مزید مجبوری ہو تو نصف رات تک تاخیر کر لیں۔ اس سے زیادہ تاخیر تو صرف اضطراری حالت ہی میں ہو سکتی ہے، مثلاً: کسی کو نیند آگئی اور وہ سویا رہ گیا اور نماز نہ پڑھی گئی تو وہ صبح تک پڑھ لے۔ گویا وقت مستحبات ثلث لیل تک، وقت جواز نصف لیل تک اور وقت اضطرار فجر طلوع ہونے تک ہے۔ واللہ اعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 528]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 605
عرفہ میں ظہر و عصر جمع کر کے پڑھنے کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حج میں منی سے مزدلفہ) چلے یہاں تک کہ آپ عرفہ آئے تو دیکھا کہ نمرہ ۱؎ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے، آپ نے وہاں قیام کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا آپ نے قصواء نامی اونٹنی ۲؎ لانے کا حکم دیا، تو آپ کے لیے اس پر کجاوہ کسا گیا، جب آپ وادی میں پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور ان دونوں کے بیچ کوئی اور نماز نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 605]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حج میں منی سے مزدلفہ) چلے یہاں تک کہ آپ عرفہ آئے تو دیکھا کہ نمرہ ۱؎ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے، آپ نے وہاں قیام کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا آپ نے قصواء نامی اونٹنی ۲؎ لانے کا حکم دیا، تو آپ کے لیے اس پر کجاوہ کسا گیا، جب آپ وادی میں پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور ان دونوں کے بیچ کوئی اور نماز نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 605]
605 ۔ اردو حاشیہ: عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں ظہر کے وقت میں جمع کرنے اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں عشاء کے وقت میں جمع کرنے پر ساری امت کا ہر دور میں اتفاق رہا ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 605]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 656
نماز میں جمع تقدیم کے لیے پہلی نماز کے وقت اذان کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے، تو آپ کو نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا ملا، وہاں آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء نامی اونٹنی پر کجاوہ کسنے کا حکم دیا، تو وہ کسا گیا (اور آپ سوار ہو کر چلے) یہاں تک کہ جب آپ وادی کے بیچو بیچ پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی اور چیز نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 656]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے، تو آپ کو نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا ملا، وہاں آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء نامی اونٹنی پر کجاوہ کسنے کا حکم دیا، تو وہ کسا گیا (اور آپ سوار ہو کر چلے) یہاں تک کہ جب آپ وادی کے بیچو بیچ پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی اور چیز نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 656]
656 ۔ اردو حاشیہ:
➊ نمرہ عرفات سے متصل ایک وادی ہے جو عرفات میں شامل نہیں۔ اس جگہ خطبۂ حج اور ظہر و عصر کی نمازیں جمع ہوتی ہیں۔ پھر وقوف عرفات میں ہوتا ہے۔ آج کل مسجد نمرہ اس وادی میں بنی ہوئی ہے۔ توسیع کی بنا پر کچھ حصہ عرفات میں آگیا ہے۔
➋ جب دو نمازوں کو پہلی کے وقت میں جمع کریں گے تو صرف پہلی کے لیے اذان کہیں گے۔ ہاں، دونوں نمازوں کے لیے اقامت الگ الگ ہو گی کیونکہ اقامت صرف جماعت کی اطلاع دینے کے لیے ہے، نیز جمع کی صورت میں دوسری اذان کی ضرورت اس لیے بھی نہیں کہ لوگ پہلے سے جمع ہیں۔
➌ دو نمازوں کے جمع کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ درمیان میں نوافل نہ پڑھے جائیں۔
➊ نمرہ عرفات سے متصل ایک وادی ہے جو عرفات میں شامل نہیں۔ اس جگہ خطبۂ حج اور ظہر و عصر کی نمازیں جمع ہوتی ہیں۔ پھر وقوف عرفات میں ہوتا ہے۔ آج کل مسجد نمرہ اس وادی میں بنی ہوئی ہے۔ توسیع کی بنا پر کچھ حصہ عرفات میں آگیا ہے۔
➋ جب دو نمازوں کو پہلی کے وقت میں جمع کریں گے تو صرف پہلی کے لیے اذان کہیں گے۔ ہاں، دونوں نمازوں کے لیے اقامت الگ الگ ہو گی کیونکہ اقامت صرف جماعت کی اطلاع دینے کے لیے ہے، نیز جمع کی صورت میں دوسری اذان کی ضرورت اس لیے بھی نہیں کہ لوگ پہلے سے جمع ہیں۔
➌ دو نمازوں کے جمع کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ درمیان میں نوافل نہ پڑھے جائیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 656]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1460
حضرت محمد بن عمرو بن حسن بن علی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ جب حجاج مدینہ منورہ آیا (اور نمازیں تاخیر سے پڑھنے لگا) تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز نصف النھار (یعنی زوال ہوتے ہی) پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج بالکل صاف اور روشن ہوتا تھا (اس کی گرمی اور روشنی میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا) اور مغرب کی نماز جب سورج غروب ہو جاتا اور عشاء کی نماز کبھی تأخیر سے پڑھتے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1460]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہر کی نماز کے بارے میں یہ معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زوال ہوتے ہی نصف النہار میں پڑھ لیا کرتے تھے لیکن دوسری حدیثوں کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول گرمی کے موسم میں نہیں تھا کیونکہ سخت گرمی کے موسم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کچھ تأخیر سے پڑھتے تھے اور عشاء کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی سہولت اور ان کی آمد کا لحاظ کرتے تھے اور عصر کی نماز اس وقت پڑھ لیتے تھے جبکہ ابھی سورج کی گرمی اور روشنی میں کوئی فرق نہیں پڑا ہوتا تھا یعنی جلدی پڑھ لیتے تھے خلاصہ کلام یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے سوا ہر نماز وقت ہوتے ہی پڑھ لیتے تھے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہر کی نماز کے بارے میں یہ معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زوال ہوتے ہی نصف النہار میں پڑھ لیا کرتے تھے لیکن دوسری حدیثوں کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول گرمی کے موسم میں نہیں تھا کیونکہ سخت گرمی کے موسم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کچھ تأخیر سے پڑھتے تھے اور عشاء کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی سہولت اور ان کی آمد کا لحاظ کرتے تھے اور عصر کی نماز اس وقت پڑھ لیتے تھے جبکہ ابھی سورج کی گرمی اور روشنی میں کوئی فرق نہیں پڑا ہوتا تھا یعنی جلدی پڑھ لیتے تھے خلاصہ کلام یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے سوا ہر نماز وقت ہوتے ہی پڑھ لیتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1460]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:560
560. حضرت محمد بن عمرو سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب حجاج بن یوسف مدینے آیا (اور نمازوں میں تاخیر کرنے لگا) تو ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے (اس کی بابت) دریافت کیا، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر عین دوپہر کے وقت پڑھتے تھے۔ اور نماز عصر ایسے وقت میں ادا کرتے کہ آفتاب صاف ہوتا تھا۔ اور نماز مغرب (اس وقت پڑھتے) جب آفتاب غروب ہو جاتا۔ اور عشاء کی نماز کبھی کسی وقت، کبھی کسی وقت، یعنی جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے اور جب آپ دیکھتے کہ انہوں نے آنے میں دیر کی ہے تو نماز کو مؤخر کر دیتے۔ اور صبح کی نماز، صحابہ کرام یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:560]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی شہادت کے بعد 74ھ میں خلیفہ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو مدینے کا گورنر تعینات کیا۔
حرمین کا تمام علاقہ اس کے زیر نگیں تھا۔
خلفائے بنو امیہ کو نمازیں دیر سے پڑھنے کی عادت تھی۔
حجاج بھی انھی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نمازوں کو بہت دیر سے پڑھتا تھا۔
ان حالات کے پیش نظر چند درد مند حضرات نے سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے نمازوں کے اوقات کے متعلق سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پنجگانہ کن اوقات میں ادا کرتے تھے؟ تو اپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
(2)
امام بخاری ؒ کا مقصود صرف نماز مغرب کا وقت بیان کرنا ہے کہ سورج کی ٹکیہ آنکھوں سے اوجھل ہوجائے تو نماز مغرب کا وقت شروع ہو جاتا ہے بشرطیکہ دیکھنے والے اور سورج کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ ہو، جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہوجاتا۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 417)
واضح رہے کہ نماز عشاء کے وقت تولوگوں کا خیال رکھا جاتا تھا کہ اگر جمع ہوجاتے تو جلدی پڑھ لیتے، بصورت دیگر ان کے آنے کا انتظار کیا جاتا لیکن صبح کے وقت لوگوں کا انتظار نہ ہوتا بلکہ اسے اندھیرے میں پڑھ لیا جاتا تھا۔
(فتح الباري: 56/2)
(1)
حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی شہادت کے بعد 74ھ میں خلیفہ عبدالملک بن مروان نے حجاج بن یوسف کو مدینے کا گورنر تعینات کیا۔
حرمین کا تمام علاقہ اس کے زیر نگیں تھا۔
خلفائے بنو امیہ کو نمازیں دیر سے پڑھنے کی عادت تھی۔
حجاج بھی انھی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نمازوں کو بہت دیر سے پڑھتا تھا۔
ان حالات کے پیش نظر چند درد مند حضرات نے سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے نمازوں کے اوقات کے متعلق سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پنجگانہ کن اوقات میں ادا کرتے تھے؟ تو اپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
(2)
امام بخاری ؒ کا مقصود صرف نماز مغرب کا وقت بیان کرنا ہے کہ سورج کی ٹکیہ آنکھوں سے اوجھل ہوجائے تو نماز مغرب کا وقت شروع ہو جاتا ہے بشرطیکہ دیکھنے والے اور سورج کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ ہو، جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج غروب ہوجاتا۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 417)
واضح رہے کہ نماز عشاء کے وقت تولوگوں کا خیال رکھا جاتا تھا کہ اگر جمع ہوجاتے تو جلدی پڑھ لیتے، بصورت دیگر ان کے آنے کا انتظار کیا جاتا لیکن صبح کے وقت لوگوں کا انتظار نہ ہوتا بلکہ اسے اندھیرے میں پڑھ لیا جاتا تھا۔
(فتح الباري: 56/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 560]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:565
565. حضرت محمد بن عمرو ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازوں کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز عین دوپہر کے وقت پڑھتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھ لیتے کہ سورج ابھی تاب دار (روشن) ہوتا، نماز مغرب غروب آفتاب کے فورا بعد پڑھ لیتے اور عشاء کی نماز کے لیے اگر اکثر مقتدی آ جاتے تو جلدی پڑھ لیتے اور اگر حاضرین کی تعداد کم ہوتی تو مؤخر کر دیتے اور نماز صبح اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:565]
حدیث حاشیہ:
اس کا مطلب یہ ہے کہ اول وقت میں نماز ادا کی جائےتو بھی عشاء اور اگر آخر وقت میں ادا کی جائے تب بھی، یعنی تقدیم وتاخیر سے اس کے نام میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، نیز عشاء کےلیے اول وآخر دونوں وقت پسندیدہ ہیں۔
اس میں نمازی حضرات کا خیال رکھنا ہوگا، اگر وہ جلدی آجائیں تو اول وقت میں اسے پڑھ لیاجائے، بصورت دیگر کچھ مؤخر کردیا جائے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ نمازیوں کی سہولت اور انتظامی امور کے لیے جواوقات مقرر کیے جاتے ہیں وہ صحیح نہیں بلکہ اگر اوقات مقرر نہ ہوں تو نمازیوں کے لیے پریشانی میں اضافے کا باعث ہے۔
البتہ امام بخاری ؒ اس حدیث کے پیش نظر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نماز عشاء کےلیے اول وقت کا انتخاب نہیں تھا بلکہ حسب ضرورت اس میں تقدیم و تاخیرکی جاتی تھی، چنانچہ علامہ کرمانی ؒ فرماتے ہیں کہ نماز عشاء کےلیے لوگوں کے جمع ہونے کا انتظار کرنا مستحب ہے اور جب جمع ہوجائیں تو بلاوجہ تاخیر کرنا مکروہ ہے۔
(شرح الکرماني: 209/2)
نماز عشاء کی تاخیر کے متعلق کہ اسے تہائی رات، نصف رات یا طلوع فجر تک مؤخر کیا جاسکتا ہے، اس کا بیان آئندہ آئے گا۔
بإذن الله.
اس کا مطلب یہ ہے کہ اول وقت میں نماز ادا کی جائےتو بھی عشاء اور اگر آخر وقت میں ادا کی جائے تب بھی، یعنی تقدیم وتاخیر سے اس کے نام میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، نیز عشاء کےلیے اول وآخر دونوں وقت پسندیدہ ہیں۔
اس میں نمازی حضرات کا خیال رکھنا ہوگا، اگر وہ جلدی آجائیں تو اول وقت میں اسے پڑھ لیاجائے، بصورت دیگر کچھ مؤخر کردیا جائے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ نمازیوں کی سہولت اور انتظامی امور کے لیے جواوقات مقرر کیے جاتے ہیں وہ صحیح نہیں بلکہ اگر اوقات مقرر نہ ہوں تو نمازیوں کے لیے پریشانی میں اضافے کا باعث ہے۔
البتہ امام بخاری ؒ اس حدیث کے پیش نظر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نماز عشاء کےلیے اول وقت کا انتخاب نہیں تھا بلکہ حسب ضرورت اس میں تقدیم و تاخیرکی جاتی تھی، چنانچہ علامہ کرمانی ؒ فرماتے ہیں کہ نماز عشاء کےلیے لوگوں کے جمع ہونے کا انتظار کرنا مستحب ہے اور جب جمع ہوجائیں تو بلاوجہ تاخیر کرنا مکروہ ہے۔
(شرح الکرماني: 209/2)
نماز عشاء کی تاخیر کے متعلق کہ اسے تہائی رات، نصف رات یا طلوع فجر تک مؤخر کیا جاسکتا ہے، اس کا بیان آئندہ آئے گا۔
بإذن الله.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 565]
بشير بن سلمان الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري