🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
106. بَابُ : النِّهْىِ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ
باب: سارے بدن کو کپڑے سے لپیٹ لینا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5342
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء سے اور ایک ہی کپڑے میں احتباء سے کہ شرمگاہ پر کچھ نہ ہو منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5342]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” «اِشْتِمَالِ صَمَّاءَ» اور ایک کپڑے میں اس طرح گوٹھ مارنے سے منع فرمایا ہے کہ اس کی شرم گاہ پر کچھ نہ رہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 10 (367)، اللباس 21 (5822)، (تحفة الأشراف: 4140)، مسند احمد (3/6، 13، 46) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”اشتمال صماء“ اہل لغت کے یہاں اشتمال صماء: یہ ہے کہ ایک آدمی کپڑے کو اپنے جسم پر اس طرح سے لپیٹ لے کہ ہاتھ پاؤں کی حرکت مشکل ہو، اس طرح کا تنگ کپڑا پہننے سے آدمی بوقت ضرورت کسی تکلیف دہ چیز سے اپنا دفاع نہیں کر سکتا، اور فقہاء کے نزدیک ”اشتمال صماء“ یہ ہے کہ پورے بدن پر صرف ایک کپڑا لپیٹے اور ایک جانب سے ایک کنارہ اٹھا کر گندھے پر رکھ لے، اس طرح کہ ستر (شرمگاہ) کھل جائے، اہل لغت کی تعریف کے مطابق یہ مکروہ ہے، اور فقہاء کی تعریف کے مطابق حرام۔ ”احتباء“ یہ ہے کہ آدمی ایک کپڑا پہنے اور گوٹ مار کر اس طرح بیٹھے کہ کپڑا اس کے ستر (شرمگاہ) سے ہٹ جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← أبو سعيد الخدري
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5342 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5342
اردو حاشہ:
(1) اشتمال صمَّأ لغت میں تو اس سے مراد اس طرح بکل مارنا ہے کہ ہاتھ وغیرہ بند ہو جائیں اور ضرورت پڑنے پر آسانی سے باہر نہ نکل سکیں جبکہ پنجابی میں اسے ”کہتے بکل“ کہتے ہیں۔ اللہ نہ کرے آدمی گرنے لگے تو ہاتھوں سے بچت نہ ہو سکے۔ کوئی مار کر بھاگے تو پکڑ نہ سکے۔ مگر فقہاء نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ جسم پر ایک ہی کپڑا لپیٹنا ہو، کوئی اور کپڑا نہ ہو۔ پھر اسے بھی ایک جانب سے اٹھا کر کندھے پر ڈال لے اور دوسری طرف سے ننگا ہو جائے اور فرض پردہ قائم نہ رہے۔ یہ صورت تو بالاتفاق حرام ہے کیونکہ ننگا ہونا جائز نہیں۔ پہلی صورت بھی مناسب نہیں۔ اگر چہ شرعاً کوئی حرج نہیں، البتہ نماز میں صورت صحیح نہیں کیونکہ بار بار بکل کو ٹھیک کرنا پڑے گا اور کپڑا اترتا رہے گا۔ نماز کی بجائے توجہ کپڑے کو درست کرنے کی طرف رہے گی۔
(2) ”گوٹھ مارنا“ اوپر والی چادر کو کمر اور دونوں گھٹنوں کے ارد گرد باندھ لینا جب کہ گھٹنے کھڑے ہوں اور مقعد اور پاؤں زمین پر ہوں۔ اس میں بھی بکل والی خرابی ہے کہ آدمی مقید سا ہو جاتا ہے۔ جلدی اٹھنا پڑے تو مشکل پیش آتی ہے، نیز چادر وغیرہ کی صورت میں ستر کھلنے کا بھی اندیشہ ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5342]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5342 in Urdu