🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
110. باب : إرخاء طرف العمامة بين الكتفين
باب: دونوں مونڈھوں کے درمیان پگڑی کا کنارہ لٹکانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5348
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ السَّاعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ , وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ".
عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھ رہا ہوں اور آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے ہیں، اس کا کنارہ اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان (پیچھے) لٹکا رکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5345 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمرو بن أمية الضمري، أبو أميةصحابي
👤←👥جعفر بن عمرو الضمري
Newجعفر بن عمرو الضمري ← عمرو بن أمية الضمري
ثقة
👤←👥مساور الوراق
Newمساور الوراق ← جعفر بن عمرو الضمري
ثقة
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← مساور الوراق
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن أبان البلخي، أبو بكر
Newمحمد بن أبان البلخي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5348 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5348
اردو حاشہ:
پگڑی باندھنے کا انداز رواجی مسئلہ ہے۔ کسی علاقے میں جس طرح پگڑی باندھی جاتی ہو، جائز ہوگی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پگڑی باندھنے کا کوئی خصوصی طریقہ بیان نہیں فرمایا: لیکن بہتر طریقہ وہی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمایا۔ اگر اتباع کی نیت ہے تو اس میں بھی ان شاءاللہ ثواب ہوگا، ہاں غلو اور علامتی پگڑی سے پرہیز ضروری ہے، اگر کسی علاقے میں مسلمان اور کافر اکٹھے رہتے ہوں تو مسلمانوں کا انداز کفار سے مختلف ہونا چاہیے تا کہ امتیاز قائم رہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5348]