سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
113. باب : ذكر ما يكلف أصحاب الصور يوم القيامة
باب: قیامت کے دن تصویریں اور مجسمے بنانے والے اس میں روح پھونکنے کے مکلف کیے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 5363
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ الَّذِينَ يَصْنَعُونَهَا يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ وہ لوگ جو تصویریں بناتے ہیں، قیامت کے روز عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان سے کہا جائے گا: زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5363]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، انہیں کہا جائے گا: جو تم نے تصویریں بنائی ہیں، ان میں زندگی بھی پیدا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 26 (2108)، (تحفة الأشراف 7520)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس89 (5951)، والتوحید 56 (7558)، مسند احمد (2/4، 20، 26، 55، 101، 126، 139، 141، 125) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5363 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5363
اردو حاشہ:
”پیدا کرو“ اور یہ محال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا یہ کام کوئی اور نہیں کر سکتا۔ ألا له الخلق، کسی کو سزا دینے کے لیے محال حکم دیا جاتا ہے کیونکہ وہاں مقصود صرف ڈانٹنا اور سزا دینا ہوتا ہے نہ کہ عمل یا اطاعت۔ اور اسے ”تعلیق بالمحال“ کہا جاتا ہے۔
”پیدا کرو“ اور یہ محال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا یہ کام کوئی اور نہیں کر سکتا۔ ألا له الخلق، کسی کو سزا دینے کے لیے محال حکم دیا جاتا ہے کیونکہ وہاں مقصود صرف ڈانٹنا اور سزا دینا ہوتا ہے نہ کہ عمل یا اطاعت۔ اور اسے ”تعلیق بالمحال“ کہا جاتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5363]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5363 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي