سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : فضل الحاكم العادل في حكمه
باب: عادل و منصف حاکم کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5381
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو. ح، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، عَلَى يَمِينِ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا". قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ:" وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک انصاف کرنے والے لوگ رحمان (اللہ) کے دائیں نور کے منبر پر ہوں گے“ ۱؎، یعنی وہ لوگ جو اپنے فیصلوں میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اور ان لوگوں کے ساتھ جو ان کے تابع ہیں انصاف کرتے ہیں۔ مدد بن آدم کی روایت میں ہے: ”اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5381]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصاف کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے، جو عدل کرتے ہیں اپنے فیصلوں میں اور اپنے گھر والوں کے ساتھ اور اپنی رعایا کے ساتھ۔“ استاد محمد بن آدم نے اپنی روایت میں کہا: اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الٕامارة 5(1827)، (تحفة الأشراف: 8898)، مسند احمد (2/160) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حقیقت میں انہیں نور کے منبر ملیں گے اور ساتھ ہی ساتھ انہیں بلند درجات بھی نصیب ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5381 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5381
اردو حاشہ:
(1) عدل و انصاف سے مراد ہرحق والے کو اس کا حق دینا ہے۔ اور لوگوں سے ان کے مقام و مرتبے کے مطابق سلوک کرنا ہے، خواہ عدالت کی کرسی ہو یا حاکم کا تخت، گھر ہو یا باہر، مسجد ہو یا مدرسہ۔
(2) ”دائیں جانب“ مراد عزت و احترام ہے کیونکہ دایاں ہاتھ یا دائیں جانب عزت و احترام کی علامت خیال کیے جاتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ ہی داہنے ہیں، جیسا کہ خود حدیث کے آخری الفاظ صریح ہیں۔
3۔ ”نور کے منبر“ لکڑی اور پتھر کا منبر ہو سکتا ہے تو نور کا کیوں نہیں؟ جب کہ فرشتے قطعاً نوری مخلوق ہیں۔ بعض محققین نے اس سے بلند درجات مراد لیے ہیں مگر منبر کی نفی کی ضرورت نہیں۔ منبر بھی تو درجات ہی ہوں گے۔
(4) ”دونوں ہاتھ داہنے ہیں“ یعنی ان میں کوئی نقص یا کمی نہیں جب کہ انسان کا بایاں دائیں سے ناقص ہوتا ہے۔
(5) اس روایت میں اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ یدٌ یعنی ”ہاتھ“ استعمال فرمایا گیا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی شان میں یہ لفظ استعمال ہوسکتا ہے۔ اس سے تشبیہ یا تجسیم لازم نہیں آئے گی۔ اسی طرح آنکھ، کان پاؤں وغیرہ۔ اگر ان الفاظ سے کوئی خرابی لازم آتی ہوتی یا یہ باری تعالیٰ کے شایان شان نہ ہوتے تو قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لیے یہ الفاظ استعمال نہ ہوتے۔ ان پیچیدہ مسائل کو اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہمیں خواہ مخواہ اس میں ٹانگ نہیں اڑانی چاہیے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورے نہیں دینے چاہئیں۔ رموز مصلحت ملک خسرواں دانند۔ البتہ ہم ان الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی ذات میں وہ مفہوم مراد نہیں لے سکتے جو انسانوں وغیرہ میں لیے جاتے ہیں۔ وہ ایسے ہیں جیسے اس کی شان کے لائق ہیں کیونکہ ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ (الشوریٰ، 11:42) اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات ہماری عقل میں آنے والی چیزیں نہیں اور نہ ہماری عقل ان مسائل کو حل کرنے یا سمجھنے کے لیے بنائی گئی ہے اور نہ اس میں یہ استعداد ہی ہے بھلا ایک محدود سے لا محدود کا احاطہ کس طرح ممکن ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم انہیں تسلیم کریں، استعمال کریں اور حقیقت کی بحث نہ کریں کیونکہ ہم سے ایسی باتیں نہیں پوچھی جائیں گی۔ درحقیقت یہ عقل مندی ہے۔
(1) عدل و انصاف سے مراد ہرحق والے کو اس کا حق دینا ہے۔ اور لوگوں سے ان کے مقام و مرتبے کے مطابق سلوک کرنا ہے، خواہ عدالت کی کرسی ہو یا حاکم کا تخت، گھر ہو یا باہر، مسجد ہو یا مدرسہ۔
(2) ”دائیں جانب“ مراد عزت و احترام ہے کیونکہ دایاں ہاتھ یا دائیں جانب عزت و احترام کی علامت خیال کیے جاتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ ہی داہنے ہیں، جیسا کہ خود حدیث کے آخری الفاظ صریح ہیں۔
3۔ ”نور کے منبر“ لکڑی اور پتھر کا منبر ہو سکتا ہے تو نور کا کیوں نہیں؟ جب کہ فرشتے قطعاً نوری مخلوق ہیں۔ بعض محققین نے اس سے بلند درجات مراد لیے ہیں مگر منبر کی نفی کی ضرورت نہیں۔ منبر بھی تو درجات ہی ہوں گے۔
(4) ”دونوں ہاتھ داہنے ہیں“ یعنی ان میں کوئی نقص یا کمی نہیں جب کہ انسان کا بایاں دائیں سے ناقص ہوتا ہے۔
(5) اس روایت میں اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ یدٌ یعنی ”ہاتھ“ استعمال فرمایا گیا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی شان میں یہ لفظ استعمال ہوسکتا ہے۔ اس سے تشبیہ یا تجسیم لازم نہیں آئے گی۔ اسی طرح آنکھ، کان پاؤں وغیرہ۔ اگر ان الفاظ سے کوئی خرابی لازم آتی ہوتی یا یہ باری تعالیٰ کے شایان شان نہ ہوتے تو قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لیے یہ الفاظ استعمال نہ ہوتے۔ ان پیچیدہ مسائل کو اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہمیں خواہ مخواہ اس میں ٹانگ نہیں اڑانی چاہیے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورے نہیں دینے چاہئیں۔ رموز مصلحت ملک خسرواں دانند۔ البتہ ہم ان الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی ذات میں وہ مفہوم مراد نہیں لے سکتے جو انسانوں وغیرہ میں لیے جاتے ہیں۔ وہ ایسے ہیں جیسے اس کی شان کے لائق ہیں کیونکہ ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ (الشوریٰ، 11:42) اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات ہماری عقل میں آنے والی چیزیں نہیں اور نہ ہماری عقل ان مسائل کو حل کرنے یا سمجھنے کے لیے بنائی گئی ہے اور نہ اس میں یہ استعداد ہی ہے بھلا ایک محدود سے لا محدود کا احاطہ کس طرح ممکن ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم انہیں تسلیم کریں، استعمال کریں اور حقیقت کی بحث نہ کریں کیونکہ ہم سے ایسی باتیں نہیں پوچھی جائیں گی۔ درحقیقت یہ عقل مندی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5381]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5381 in Urdu
عمرو بن أوس الطائي ← عبد الله بن عمرو السهمي