🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب : الاستعداء
باب: قابل گرفت آدمی کے خلاف حاکم سے مدد طلب کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5411
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شَرَحِبِيلَ , قَالَ: قَدِمْتُ مَعَ عُمُومَتِي الْمَدِينَةَ , فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا , فَفَرَكْتُ مِنْ سُنْبُلِهِ، فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَأَخَذَ كِسَائِي , وَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعْدِي عَلَيْهِ فَأَرْسَلَ إِلَى الرَّجُلِ فَجَاءُوا بِهِ , فَقَالَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟" , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ دَخَلَ حَائِطِي فَأَخَذَ مِنْ سُنْبُلِهِ فَفَرَكَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا، وَلَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ جَائِعًا، ارْدُدْ عَلَيْهِ كِسَاءَهُ" , وَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَسْقٍ , أَوْ نِصْفِ وَسْقٍ.
عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مدینے آیا تو وہاں کے ایک باغ میں گیا اور ایک بالی (توڑ کر) مسل ڈالی، اتنے میں باغ کا مالک آ گیا، اس نے میری چادر چھین لی اور مجھے مارا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کے خلاف مدد چاہی، چنانچہ آپ نے اس شخص کو بلا بھیجا۔ لوگ اسے لے کر آئے، آپ نے فرمایا: اس اقدام پر تمہیں کس چیز نے اکسایا؟ وہ بولا: اللہ کے رسول! یہ میرے باغ میں آیا اور بالی توڑ کر مسل دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تو تم نے اسے بتایا جب کہ وہ ناسمجھ تھا، نہ تم نے اسے کھلایا جبکہ وہ بھوکا تھا، اس کی چادر اسے لوٹا دو، اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وسق یا آدھا وسق دینے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5411]
حضرت عباد بن شرجیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مدینہ منورہ آیا۔ میں ایک باغ میں داخل ہوا اور میں نے کچھ سٹے توڑ کر ان کے دانے نکال لیے۔ باغ کا مالک آیا، اس نے میری چادر چھین لی اور مجھے مارا بھی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور دعویٰ دائر کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلا بھیجا، لوگ اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے باغ میں داخل ہوا، اس نے کچھ سٹے توڑے اور ان کے دانے نکال لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جاہل تھا، تو نے اسے تعلیم نہ دی، یہ بھوکا تھا، تو نے اسے کھانے کو نہ دیا، اس کی چادر واپس کر۔ اور مجھے ایک یا نصف وسق دینے کا حکم جاری فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 93 (2620، 2621)، سنن ابن ماجہ/التجارات 67 (2298)، (تحفة الأشراف: 5061)، مسند احمد (4/167) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابوداؤد کے الفاظ ہیں «وأعطانی» یعنی اس باغ والے نے مجھے ایک یا آدھا صاع غلہ دیا یعنی اس نے جو میری ساتھ زیادتی کی تھی اس کے بدلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اس تاوان کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عباد بن شرحبيل اليشكريصحابي
👤←👥جعفر بن أبي وحشية اليشكري، أبو بشر
Newجعفر بن أبي وحشية اليشكري ← عباد بن شرحبيل اليشكري
ثقة
👤←👥سفيان بن الحسين الواسطي، أبو محمد، أبو الحسن، أبو المؤمل
Newسفيان بن الحسين الواسطي ← جعفر بن أبي وحشية اليشكري
صدوق يخطئ
👤←👥مبشر بن عبد الله السلمي، أبو بكر
Newمبشر بن عبد الله السلمي ← سفيان بن الحسين الواسطي
ثقة
👤←👥الحسين بن منصور السلمي، أبو علي
Newالحسين بن منصور السلمي ← مبشر بن عبد الله السلمي
ثقة مأمون
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2620
ما علمت إذ كان جاهلا ولا أطعمت إذ كان جائعا وأمره فرد علي ثوبي وأعطاني وسقا أو نصف وسق من طعام
سنن ابن ماجه
2298
ما أطعمته إذ كان جائعا أو ساغبا ولا علمته إذ كان جاهلا
سنن النسائى الصغرى
5411
ما علمته إذ كان جاهلا ولا أطعمته إذ كان جائعا اردد عليه كساءه وأمر لي رسول الله بوسق أو نصف وسق
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5411 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5411
اردو حاشہ:
(1) باب کا مقصد یہ ہے کہ دعویٰ دائر کرنا شرعاً جائز ہے۔ یہ فریق ثانی پر زیادتی نہیں بلکہ اپنا حق لینے کے لیے درست ہے۔
(2) جاہل تھا مقصود یہ ہے کہ غلطی کرنے والے کو صحیح اور درست عمل بتانا چاہیے تھا، اجنبی تھا پھر بھوکا بھی تھا، اس لیے تجھے چاہیے تھا کہ اسے پیار کے ساتھ بتاتا کہ اس طرح اپنی مرضی سے توڑنے کی بجائے مالک سے مانگ لینا چاہیے۔ پھر تو اسے کھانے کو مزید دیتا تاکہ اس کی ضرورت پوری ہوتی جب کہ تو نے اس غریب کی چادر بھی چھین لی اور مارا بھی۔
(3) معلوم ہوا جرائم کی سزا دینے سے پہلے لوگوں کی تعلیم و تربیت ضروری ہے، نیز ان کی بنیادی ضروریات بھی پوری کی جائیں تاکہ وہ جان بچانے کے لیے جرم نہ کریں۔
(4) اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ضرورت مند، بقدر ضرورت کسی کے باغ یا کھیت سے لے اور کھا سکتا ہے، البتہ اتنا زیادہ لینا درست نہیں جو ضرورت پوری ہونے کے بعد ساتھ بھی لے جائے۔ یاد رہے کہ بغیر اجازت کسی کے باغ سے کھا پی لینا ایسا جرم نہیں کہ اس پر چوری کی حد نافذ ہو بلکہ اگر وہ بھوکا ہو تو اسے کچھ نہیں کہا جائے گا اور اگر وہ بھوک کے بغیر ہو تو سے جرمانہ وغیرہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو جسمانی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
(5) حکم جاری فرمایا یعنی بیت المال سے نہ کہ اس آدمی کے مال سے۔ ابو داؤد کی روایت میں صراحت ہے کہ آپ نے غلے کا ایک یا نصف وسق مجھے عطا فرمایا۔ (سنن أبي داؤد، الجهاد، حدیث: 2620)
(6) ایک اونٹ پر جتنا غلہ لادا جاتا ہے، اسے بھی وسق کہتے ہیں۔
(7) کسی کی تھوڑی بہت چیز بلا اجازت لے لینا اس چوری میں شامل نہیں جس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔ اس پر مناسب تعزیر ہی کافی ہے، البتہ بلا اجازت کسی کا مال لینے والے سے پہلے اس کا سبب معلوم کرنا چاہیے اور اگر اس کا کوئی معقول عذر ہو تو پھر اسے معاف کردینا چاہیے کیونکہ بعض حالات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان میں معافی ہی درست ہوتی ہے۔
(8) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے مستحق شخص کی مدد بیت المال اور حکومتی خزانے سے کرنی چاہیے۔ یہ اس کا حق ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5411]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2298
کسی کے ریوڑ یا باغ سے گزر ہو تو کیا آدمی اس سے کچھ لے سکتا ہے؟
ابوبشر جعفر بن أبی ایاس کہتے ہیں میں نے عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ جو بنی غبر کے ایک فرد ہیں کو کہتے سنا کہ ایک سال قحط ہوا تو میں مدینہ آیا، وہاں اس کے باغوں میں سے ایک باغ میں گیا، اور اناج کی ایک بالی اٹھا لی، اور مل کر اس میں سے کچھ کھایا، اور کچھ اپنے کپڑے میں رکھ لیا، اتنے میں باغ کا مالک آ گیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باغ والے سے کہا: تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا، اور نہ ت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2298]
اردو حاشہ:
فوائد  و مسائل:

(1)
ضرورت مند کسی کے کھیت یا باغ سے ضرورت کے مطابق تھوڑا بہت لے سکتا ہے، البتہ اتنا زیادہ لے لینا درست نہیں جو ساتھ لے جائے۔

(2)
غلطی کرنے والے کے حالات معلوم کر لیے جائیں تو اس کے ساتھ صحیح رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

(3)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیت کے مالک کو سزا نہیں دی کیونکہ وہ حق پر تھا لیکن اس کے طرز عمل کو غلط قرار دیا۔

(4)
غلطی کرنے والے کو صحیح عمل بھی بتانا چاہیے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ بھوکے آدمی کےساتھ کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا اور اس کا کپڑا بھی واپس دلوایا۔

(5)
مستحق آدمی کی مدد بیت المال سے کی جانی چاہیے۔

(6)
کسی کی تھوڑی بہت چیز بلااجازت لے لینا اس چوری میں شامل نہیں جس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔
اس پر مناسب تعزیر کافی ہے اور خاص حالات میں معاف بھی کیا جا سکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2298]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5411 in Urdu