سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : ماجائ في المعوسذتين
باب: معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5434
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" يَا ابْنَ عَابِسٍ , أَلَا أَدُلُّكَ؟" أَوْ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ مَا يَتَعَوَّذُ بِهِ الْمُتَعَوِّذُونَ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ , وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ".
ابن عابس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ابن عابس! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں؟“ یا کہا: ”کیا میں تمہیں خبر نہ دوں سب سے بہتر پناہ کی جس کے ذریعہ پناہ مانگنے والے پناہ مانگیں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» یہ دونوں سورتیں (پناہ مانگنے کے لیے سب سے بہتر ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5434]
حضرت ابن عابس جہنی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے ابن عابس! کیا میں تجھے وہ افضل کلام نہ بتلاؤں جس کے ساتھ پناہ حاصل کرنے والے اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کر سکتے ہیں؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ ضرور۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] یہ دو سورتیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15523)، مسند احمد (3/417، 4/144، 152) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 5434 in Urdu
أبو عبد الله المدني ← ابن عابس الجهني